تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 636
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ماندہ روٹی اس کے کام آتی ہے لیکن جو عمل نہیں کرتا کھاتا تو وہ بھی ڈیڑھ ہی ہے مگر آدھی بنے کو دیتا ہے۔پس کوئی شخص خواہ کتنا غریب ہو اسے چاہئے کہ کچھ نہ کچھ ضرور جمع کرتا رہے۔خواہ پیسہ یا دو پیسے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ بعض اوقات پیسہ دو پیسہ کا ہی خرچ آپڑتا ہے جس کے پورا کرنے کی کوئی اور صورت نہیں ہوتی اور اس وقت جمع شدہ پیسہ کام آتا ہے۔بعض اوقات غریب لوگ فوت ہو جاتے ہیں تو کفن کیلئے بھی گھر میں کچھ نہیں ہوتا اور اگر ایک دو آنہ ماہوار بھی انسان بچاتا رہے تو بھی مرنے کے بعد گھر کے برتن یا دوسر اسامان گرور کھ کر کفن کا انتظام نہ کرنا پڑے گا۔یہ اتنی موٹی بات ہے مگر شاید میرے بیان میں کوئی نقص ہے یا جماعت کے سمجھنے میں کہ ابھی تک جماعت میں یہ بات پیدا نہیں ہو سکی۔اچھی طرح یا درکھو کہ سادہ زندگی اس تحریک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔اس میں غریبوں کا امیروں کی نسبت زیادہ فائدہ ہے کیونکہ وہ جو کچھ جمع کریں گے اپنی ضرورت کیلئے کریں گے اور اسی طرح امرا کو بھی اس سے فائدہ ہے۔اگر کوئی مصیبت کا وقت آجائے تو اس وقت پس انداز کیا ہوا سر مایہ ان کے کام آئے گا۔پس میں آج پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ سادہ زندگی کا مطالبہ تحریک جدید کے اہم مطالبات میں سے ایک ہے۔اس کا اقتصادی پہلو اور مذہبی سیاسی پہلو دونوں بہت اہمیت رکھتے ہیں اور اگر ہم اس کے ذریعہ غریب اور امیر کے فرق کو کسی حد تک مٹانے اور مساوات کی اس روح کو جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ ایک عظیم الشان کام ہوگا جو لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں، کھربوں روپیہ سے زیادہ قیمتی ہے بلکہ دنیا کی تمام دولت سے زیادہ بیش قیمت ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کھانے کے متعلق بالعموم احباب جماعت نے پابندی کی ہے، لباس کے متعلق کچھ حصہ نے کی ہے مگر کچھ حصہ نے نہیں کی۔بعض کے متعلق تو مجھے معلوم ہے کہ انہوں نے چندے زیادہ لکھوا دیے اور پھر دو دو تین تین سال تک کوئی کپڑے نہیں بنوائے۔خود میرا بھی یہی حال ہے۔کل ہی ایک عجیب اتفاق ہوا۔جس پر مجھے حیرت بھی آئی ایک دوست ملنے آئے اور انہوں نے ایک تحفہ دیا کہ فلاں دوست نے بھیجا ہے۔وہ ایک کپڑے کا تھان تھا۔اس کے ساتھ ایک خط تھا جس میں اس دوست نے لکھا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ آئے ہیں اور کہا ہے کہ قمیضوں کیلئے کپڑے کی ضرورت ہے، بازار سے لا دو۔اس پر میں نے دریافت کیا کہ آپ صاف کپڑا پسند کرتے ہیں یا دھاری دار؟ آره نے اس کا کوئی جواب لفظوں میں تو نہیں دیا لیکن میرے دل پر یہ اثر ہوا کہ دھاری دار آپ کو پسند نہیں 636