تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 635

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1938ء ضرورتیں بھی اس کے مطابق ہوتی ہیں اس لئے یہ بچت بھی ان کے لئے مفید ہوتی ہے۔ہر شخص کے کام اور اس کی ضرورت کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔کسی کا کام آٹھ آنے نہ ہونے کی وجہ سے رک جاتا ہے تو کسی کا دس ہزار نہ ہونے کی وجہ سے۔پھر ایسے غربا بھی ہوتے ہیں جو ایک پیسہ کے محتاج ہوتے ہیں۔ان کیلئے بظاہر اقتصادی زندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو کہتے ہیں کہ ایک پیسہ ہو تو کیا اچھا ہے! تو ہر شخص کی ضرورت اور اقتصادی پہلو برابر برابر چلتے ہیں۔بے شک ایک غریب آدمی کہہ سکتا ہے کہ اگر میں نے دو چار روپے جمع کر بھی لئے تو اس سے کیا ہوتا ہے؟ لیکن اسے خیال رکھنا چاہئے کہ اس کی ضرورتیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں۔کئی دفعہ ایسی ضروریات پیش آجاتی ہیں کہ انسان کہتا ہے اس وقت اگر دس روپے پاس ہوتے تو بہت اچھا ہوتا اور اگر وہ بارہ آنہ یا روپیہ ہر مہینہ جمع کرتا رہے تو دوسرے سال دس روپے والی ضرورت جب اسے پیش آئے گی تو اس کا کام چل جائے گا اور اسے کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی۔یہ صحیح ہے کہ غریب آدمی اپنی حالت کے مطابق بہت قلیل رقم پس انداز کر سکتا ہے مگر اس کی ضرورتیں بھی تو قلیل ہی ہوتی ہیں۔تھوڑا تھوڑا کر کے وہ سال میں جس قدر پس انداز کرتا ہے اس کا نہ ہونا کسی وقت اس کی تباہی کا موجب ہو سکتا ہے پس یہ تحریک صرف امراء کیلئے ہی نہیں بلکہ غریبوں کیلئے بھی تھی لیکن امراء تو خیال کرتے ہیں کہ ہمارا گزارہ تو اچھا چل رہا ہے ہمیں پس انداز کرنے کی کیا ضرورت ہے جب کہ آمد کافی ہے؟ حالانکہ وہ بھی حادثات کا شکار ہو سکتے ہیں اور غریب سمجھتے ہیں کہ ہم نے جمع کیا کرنا ہے ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ ہے ہی نہیں ؟ مگر یہ وہ کر لیتے ہیں کہ پہلے قرض لے لیا اور پھر جمع کر کے اسے ادا کر دیا۔گویا وہ جمع تو کرتے ہیں مگر ایک ایسے صندوق میں جس کے نیچے سوراخ ہو اور جو کچھ اس میں ڈالیں وہ دوسرے رستے سے نکلتا جائے۔وہ جو کچھ اس میں ڈالتے ہیں وہ اسی سوراخ کے رستے بنٹے کے گھر میں گرتا جاتا ہے۔عقلمندی یہ نہیں کہ جسے دو روٹیاں نہیں ملتیں وہ ڈیڑھ ہی کھائے بلکہ عقلمندی یہ ہے کہ جب اسے دو ملتی ہیں اس وقت بھی وہ ڈیڑھ کھائے اور نصف ضرورت کیلئے اٹھار کھے اور جسے دو بھی نہیں ملتیں وہ بھی جو ملے اس میں سے کچھ نہ کچھ پس انداز کرے تا مصیبت کے وقت اس سے فائدہ اٹھا سکے کیونکہ جب تک ایسی حکومت موجود نہ ہو جو ہر شخص کے کھانے کی ذمہ دار ہو اس وقت تک یہ فکر نہ کرنا عاقبت نا اندیشی ہے۔پس میری تجویز یہ ہے کہ آدھی روٹی گھر میں رکھوتا جب نہ ملے تو اسے کھا سکو اور اسی غرض سے میں نے تحریک جدید امانت فنڈ قائم کیا تھا۔جو شخص اس تجویز پر عمل کرتا ہے وہ فائدہ میں رہتا ہے اور باقی 635