تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 634

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول لیتے ہیں وہ فوراً اپنے اخراجات کو کم کر دیتے ہیں یا نہیں؟ اگر ہزار تنخواہ تھی تو پینشن پانچ سورہ جاتی ہے، پانچ سو ہو تو اڑھائی سو اور سو ہو تو پچاس روپے پینشن لینے والا اس کے مطابق اپنے اخراجات میں بھی کمی کر دیتا ہے۔جب دنیوی حالات میں تبدیلی کی وجہ سے اخراجات میں کمی کی جاسکتی ہے تو دین کیلئے ایسا کرنا کیا مشکل ہے؟ حالانکہ ایسا کرنے میں سراسر ہمارا اپنا فائدہ ہے کیونکہ جو بچت ہوگی وہ ہمارے ہی کام آئے گی۔شادی بیاہ اور دوسری ایسی ضروریات کے موقعہ پر قرض نہ لینا پڑے گا یا اگر اس بچت سے ان کی جائیدادیں بڑھیں گی تو ان سے ان کی آمد میں اضافہ ہوگا اور وہ ان کے اور ان کی اولادوں کے کام آئیں گی۔تو بہت سے فوائد اس کے نتیجہ میں پیدا ہوں گے اور سادہ زندگی کے فوائد کا یہ اقتصادی پہلو ہے۔خلاصہ یہ کہ ایک پہلو اس تحریک کا مذہبی سیاسی تھا تا کہ جماعت میں ایسی روح پیدا ہو جائے کہ مساوات قائم رہے اور چھوٹے بڑے کا امتیاز مٹ جائے اور یہ تفرقہ آگے جا کر دوسرے بڑے تفرقوں کا موجب نہ ہو۔بے شک عادتوں کا چھوڑ نا مشکل ہوتا ہے۔جو شخص اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اس کیلئے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ کھانے اور کپڑے میں تبدیلی کرے۔اسے اس میں شرم محسوس ہوتی ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ اور اس وجہ سے یہ بہت بڑی قربانی ہے مگر قربانی کے بغیر قومی ترقی ہو ہی نہیں سکتی۔یہ خیال بالکل غلط ہے کہ سادہ زندگی کا مطالبہ صرف امرا کیلئے ہے، غریب کا تو پہلے ہی بمشکل گزارہ ہوتا ہے وہ بچت کس طرح کر سکتا ہے؟ کیونکہ امیر کو اگر ضرورت کے وقت زیادہ رقم درکار ہوتی ہے تو غریب کو اسی نسبت سے کم رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔امیر کہتا ہے کہ اس وقت اگر دس ہزار روپیہ ہو تو کام چل سکتا ہے مگر غریب کہتا ہے کہ اگر پانچ روپے ہوں تو کام چل سکتا ہے۔کام دونوں کے رکے ہوئے ہوتے ہیں امیر کا دس ہزار کیلئے اور غریب کا پانچ کیلئے۔میں نے بعض سوالی دیکھتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ایک روپیہ فلاں ضرورت کیلئے درکار ہے اس میں سے آٹھ آنے تو مہیا ہو گئے ہیں باقی صرف آٹھ آنے کی اور ضرورت ہے۔پس اگر غریب بھی بچت کا خیال کریں تو اتنی تبدیلی اخراجات میں کر لیں کہ ایک آنہ ماہواری بچالیں تو انہیں بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ایسے غریب لوگ بھی ہوتے ہیں جن کا آٹھ آنے نہ ہونے کی وجہ سے کوئی کام رکا رہتا ہے۔ایسے غریب بھی ہوتے ہیں جن کا کام کسی وقت بارہ آنے یا روپیہ پاس نہ ہونے کی وجہ سے رک جاتا ہے اور جو شخص روپیہ یا دور و پیہ ماہوار کی بچت کر سکے وہ بھی اس کے لئے بہت مفید ہوسکتی ہے کیونکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو دس بارہ یا بیس پچیس روپے نہ ہونے کی وجہ سے اپنا کام نہیں چلا سکتے اور اگر وہ روپیہ دو روپیہ ماہوار بچاتے جائیں تو چونکہ ان کی 634