تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 633
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 نومبر 1938ء لئے مجبوراً صرف چند امیر ا حباب کو بلا لیتے تھے لیکن کھانے میں سادگی کی وجہ سے اتنی گنجائش ہو سکتی ہے کہ غریبوں کو بھی بلا لیں اور اس طرح دونوں کیلئے ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے کا راستہ کھل گیا ہے۔گو امیر وغریب کے ہاں کھانے میں گھی یا مصالحہ اور خوشبو کی کمی بیشی کا امتیاز رہ جائے لیکن کھانا ایک ہی نظر آئے گا اور یہ اس مطالبہ کا مذہبی سیاسی پہلو تھا کہ دوئی کی روح کو مٹایا جائے اور یہ احساس نہ رہے کہ دونوں علیحدہ علیحدہ طبقے ہیں اور گو یکجہتی، اتحاد اور مساوات کی حقیقی روح حکومت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی مگر اس تحریک کے ذریعہ میں نے کوشش کی ہے کہ وہ زندہ رہے تا جب بھی مسلمان حکومت آئے تو ہم اسے قبول کرنے کیلئے تیار ہوں اور یہ نہ ہو کہ لڑنے لگیں کہ ہم یہ نہ ہونے دیں گے کہ چھوٹائی بڑائی کے امتیاز کو مٹا دیا جائے۔آج اگر ہندوؤں کی حکومت قائم ہو جائے تو بجائے اس کے کہ مساوات قائم ہوان میں جو امتیازات ہیں وہ زیادہ شدت اختیار کرلیں گے لیکن اسلامی حکومت کا قیام مساوات کو صحیح رنگ میں قائم کرے گا اور میری غرض یہ ہے کہ جب تک اسلام کی حکومت دنیا میں قائم نہ ہو مساوات کو روح زندہ رہے۔دوسرا پہلو اس مطالبہ کا اقتصادی تھا۔اس میں میرے مدنظر یہ بات تھی کہ اگر جماعت بغیر بچت کرنے کے چندوں میں زیادتی کرتی جائے گی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ کمزور ہوتی جائے گی۔حتی کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس میں کوئی قربانی کرنے کی طاقت ہی نہ رہے گی۔اس لئے میں نے سوچا کہ ان میں کفایت شعاری کا مادہ پیدا ہوا اور جب کفایت کی عادت ہوگی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے اخراجات میں کمی کر کے چندے دیں گے اور چندوں کیلئے ان کو قرض لینے کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ جب یہ روح ان میں پیدا ہوگی تو وہ کچھ نہ کچھ پس انداز بھی کریں گے۔امانت فنڈ کی مضبوطی کا مطالبہ در اصل پس انداز کرانے کے لئے ہی تھا مگر افسوس ہے کہ دوستوں نے اس سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا۔حالانکہ اس کی اصل غرض صرف یہ تھی کہ جماعت کی مالی حالت مضبوط ہو، وہ اقتصادی لحاظ سے ترقی کرتی جائے اور فضول اخراجات کو محدود کرتی جائے یہ نہ ہو کہ اخراجات کو بدستور رکھے اور جب چندہ کا وقت آئے تو بوجھ محسوس کرے اور جائیداد میں فروخت کر کے دے۔اس میں شک نہیں کہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کیلئے جائیدادیں فروخت کر کے بھی چندوں کا ادا کرنا ضروری ہوتا ہے مگر یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی طرف دوسروں کی نگاہیں اٹھتی ہیں اور جنہیں دوسروں کے سامنے اپنا نمونہ پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔باقی لوگوں کیلئے اخراجات کو کم کر کے ہی دین کی مدد کرنا ضروری ہوتا ہے اور یہی مدد ہے جو ان کیلئے بھی اور دین کیلئے بھی زیادہ ثواب کا مستحق ہو سکتی ہے اور اخراجات میں کمی کرنا انسان کے بس کی بات ہوتی ہے۔جولوگ پینشن 633