تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 52

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء 66 تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول سے اس ادھر گرتا ہو اور بعض میں سے اُدھر۔بعض کا چھلکا ایک طرف گرتا ہو اور بعض کا چھلکا دوسری طرف۔یہی حال انسانی اعمال کا ہوتا ہے بعض کا رس ادھر یعنی اس دنیا میں گرتا ہے اور چھلکا دار الاقامہ یعنی ہمیشہ کے گھر میں اور بعض کا چھال کا اس دنیا میں گرتا ہے اور اس اُدھر۔جب لوگ مرکز اگلے جہان میں جائیں گے تو بعض سے کہا جائے گا کہ: " لو تمہارے اعمال کا چھل کا محفوظ ہے اسے دوزخ میں ڈال دیتے ہیں اس سے تمہارے جلانے کے لئے اچھی آگ پیدا ہوگی یہی چیز تمہاری طرف سے یہاں محفوظ رکھنے کے لئے آئی تھی۔حالانکہ وہ دنیا میں خوش ہو رہے ہوں گے کہ انہوں نے اپنے لئے بہت اچھا رس پیدا کیا اور کئی ایسے ہوں گے کہ دنیا میں ان کو لوگ حقیر اور ذلیل سمجھتے ہوں گے مگر ان کے بیلینے کا منہ اگلے جہاں کی طرف ہوگا اور اس میں سے نکلنے والے رس سے شکر اور کھانڈ بن رہی ہوگی جب وہ وہاں جائیں گے تو اس کے ڈھیر ان کے سامنے لگا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ : ”لو یہ قند تمہارے اعمال نے تیار کیا تھا ا سے لو اور اپنا منہ میٹھا کرو اس دنیا میں ان کو ذلیل سمجھا جاتا تھا کیونکہ ان کے کام کا فضلہ ادھر گر رہا تھا اور رس اگلے جہاں میں لیکن کچھ وہ لوگ جو یہاں معزز سمجھے جاتے ہوں گے وہاں ذلیل ہوں گے کیونکہ ان کے اعمال کا فضلہ وہاں جمع ہو رہا تھا اور رس اس جہاں میں۔اُس دن جب کہ تمام اگلے پچھلے انسان جمع کئے جائیں گے اُمتیں انہی پر فخر کریں گی جنہیں دنیا کی مجلسوں میں ذلیل سمجھا جاتا تھا مگر جو اپنے اخلاص کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے نزدیک معزز تھے اُس مجلس میں وہ معزز قرار دیئے جائیں گے اور ہزاروں آدمی جو یہاں انہیں رشتہ دار سمجھنے کے لئے تیار نہیں وہاں اپنے آپ کو ان کے قریبی رشتہ دار قرار دیں گے۔قرآن کریم میں اس موقع کا کیا ہی عجیب نقشہ کھینچا گیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے مومنوں کے ساتھ منافقوں کی ایک ایسی جماعت ہے جو قر بانیوں میں شامل نہیں ہوتی اور وہ مومنوں سے کہتے ہیں تم مخلص ہو ہم منافق ہی سہی۔تم قربانیاں کرو ہم شریک نہیں ہو سکتے۔فرمایا: جب قیامت کے دن مومنوں کو نور دیا جائے گا جو جنت کی طرف رہنمائی کرے گا تو وہ لوگ جو دنیا میں مومنوں سے تمسخر کرتے تھے ٹھوکریں کھاتے ہوئے ان کے پیچھے چلتے ہوں گے اور عاجزانہ طور پر درخواست کریں گے کہ ہمیں بھی نور دے دو۔چونکہ نور خدا تعالیٰ ہی دے سکتا ہے اس لئے مؤمن ان سے کہیں گے یہ نور تمہیں نہیں دیا جا سکتا۔تم پیچھے مڑو! وہاں سے ہی نورمل سکتا ہے یعنی اس دنیا میں سے مل سکتا ہے جس سے تم نے حاصل نہیں کیا۔پس یہ جوغر با ہیں ان کی رقوم سے گو کوئی معتد بہ زیادتی نہیں ہوئی مگر وہ جو اس کا نتیجہ جماعت کو ملنے والا ہے اور جو خدا تعالیٰ کی طرف سے فضل کی صورت میں نازل ہونے والا ہے اس میں یقیناً ان کا 52