تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 626

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول ہوتی ہے جو وعدہ تو کرتے ہیں مگر اسے پورا نہیں کرتے۔پس ایسے نادہندہ اگر اس تعداد میں سے نکال دیئے جائیں تو پانچ ہزار ہی وہ لوگ رہ جاتے ہیں جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا۔مجھے خود بھی دو تین سال ہوئے یہی خیال آیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی تحریک جدید میں حصہ لینے والوں پر ہی چسپاں ہوتی ہے اور ان دنوں میں نے چودھری برکت علی صاحب کو ایک دفعہ بلا کر پوچھا بھی کہ اس تحریک میں حصہ لینے والوں کی کتنی تعداد ہے تو انہوں نے کہا کہ میں زبانی نہیں بتا سکتا، دیکھ کر بتاؤں گا۔میں نے کہا اندازاً آپ بتائیں کہ کس قدر لوگ ہوں گے؟ انہوں نے اس وقت بتلایا کہ شاید سات ہزار کے قریب ہیں۔ان کے اس جواب سے میرے ذہن میں جو یہ خیال تھا کہ شاید تحریک جدید میں حصہ لینے والے پانچ ہزار ہوں اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ کشف اسی کے متعلق ہو جا تا رہا “۔مگر اب قاضی صاحب کے مضمون سے جو اعداد و شمار مرتب کیے گئے ہیں۔مجھے وہ پرانا خیال یاد آ گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ در حقیقت انہی لوگوں کے متعلق یہ کشف ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کئی سال سے میرا یہ خیال ہے کہ یہی وہ فوج ہے جس کے ملنے کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خبر دی گئی تھی اور اسی فو کے ذریعہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسلام کی فتح کے لئے ایک مستقل اور پائیدار بنیادقائم کرے اور یہ فوج اپنا ایک ایسا نشان چھوڑ جائے جس کے ذریعہ ہمیشہ دنیا میں اسلام کی تبلیغ ہوتی رہے۔" پھر عجیب بات یہ ہے کہ ادھر الفضل میں یہ مضمون شائع ہوا اور ادھر چند دن پہلے میں یہ سوچ رہا تھا کہ تحریک جدید میں آخر تک قربانی کرنے والوں کو آئندہ نسلوں کے لئے بطور یادگار بنانے کیلئے کوئی تجویز کروں۔جب یہ کشف میرے سامنے آیا تو اس نے میرے اس خیال کو اور زیادہ مضبوط کر دیا اور میں نے چاہا کہ وہ لوگ جو اس تحریک میں آخر تک استقلال کے ساتھ حصہ لیں ان کے ناموں کو محفوظ رکھنے کیلئے اور اس غرض کے لئے کہ آئندہ نسلیں ان کے لئے دعائیں کرتی رہیں، کوئی یادگار قائم کروں۔لوگ اولاد کے لئے کتنا تڑپتے ہیں محض اس لئے کہ دنیا میں ان کا نام قائم رہے۔میں نے اپنے دل میں کہا وہ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کے احیا اور اس کے جھنڈے کو بلند رکھنے کیلئے اس تحریک میں حصہ لیا ہے ان کے نام آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ رکھنے کی خاطر کیوں نہ کوئی تجویز کی جائے۔چنانچہ اس کیلئے میں نے ایک نہایت موزوں تجویز سوچی ہے جسے اپنے وقت پر ظاہر کیا جائے گا۔غرض اس مضمون کو پڑھنے کے بعد میرے دل میں یہ خیال آیا کہ جسے خدا نے اپنا لشکر قرار دیا ہے اور جس کے ذریعہ اسلام کی فتح کا سامان دنیا میں ہونے والا ہے اس جماعت کو کون مٹا سکتا ہے؟ یقیناً کوئی نہیں جو اسے مٹا سکے لیکن ہمارا بھی فرض 626