تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 619
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود : 18 نومبر 1938ء تحریک جدید کو اسی رنگ میں چلایا جائے کہ اس کے سائر کا بجٹ زیادہ ہو اور کارکنان کے گزارہ کا بجٹ کم ہو۔میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ سائز کا بجٹ کئی گنے زیادہ ہونا چاہئے۔کم از کم تین گنا ضرور ہونا چاہئے یعنی اگر سوروپے پاس ہوں تو ان میں سے پچیس روپے آدمیوں پر خرچ ہونے چاہئیں اور 75 روپے اشاعت لٹریچر اور کرایوں وغیرہ پر۔اگر اس طریق کو محوظ نہ رکھا جائے تو کسی قسم کی قباحتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔مثلاً اگر لٹریچر موجود نہیں، کرایہ کیلئے کوئی رقم پاس نہیں، اشتہارات چھپوانے کیلئے کوئی روپیہ پاس نہیں، کہیں دواخانے وغیرہ کھولنے کیلئے مالی گنجائش نہیں تو صرف آدمیوں کو ہم نے کیا کرنا ہے؟ وہ تو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے اور جو کام ہے وہ رکا رہے گا۔پس ضروری ہے کہ جو خرچ آدمیوں پر ہو اس سے کئی گنے زیادہ اشاعت وغیرہ کے اخراجات کیلئے روپیہ ہو۔مثلاً اشتہارات چھپوانے کیلئے لٹریچر کی اشاعت کیلئے ، دواخانے کھولنے کیلئے آمد ورفت کے کرایوں کیلئے مدرسوں کے اجرا کیلئے غریب بچوں کو سکتا ہیں مہیا کر کے دینے کیلئے اور اسی طرح کے اور بہت سے کاموں کیلئے۔فرض کرو ہم کسی جگہ مدر سے کھولتے ہیں وہاں تمام لڑکے غریب ہیں۔اب سکول چلانے کیلئے ضروری ہوگا کہ بچوں کو کتب اور دوسرا سامان بھی دیا جائے ورنہ خالی مدرس بیٹھا ہوا وہاں کیا کر سکتا ہے؟ پس میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر آدمیوں کی تنخواہوں پر 25 روپے خرچ ہوا کریں تو سائر کیلئے 75 روپے ہونے چاہئیں اور یہ کم سے کم اندازہ ہے اور میری کوشش ہے کہ اسی اصل پر تحریک جدید کے کام کو منظم کیا جائے۔پس اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ نو جوان جو بغیر روپیہ کے کام کرنے کے لئے تیار ہوں وہ اپنی زندگیاں وقف کریں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے بعض نوجوان ہمیں ایسی ہی روح رکھنے والے دیئے ہوئے ہیں۔چنانچہ ان واقفین زندگی میں ایک وکیل ہیں، ان کے والد کئی مربعوں کے مالک ہیں اور وہ اپنے علاقہ کے رئیس اور مرکزی اسمبلی کے ووٹروں میں سے ہیں۔وہ شادی شدہ ہیں مگر ہم انہیں میں روپے ہی دیتے ہیں اور وہ خوشی سے اسے قبول کرتے ہیں۔حالانکہ زمیندار ہونے کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ اپنے علاقہ میں انہیں اچھا رسوخ حاصل ہے، اگر وہ وکالت کرتے تو سوڈیڑھ سو روپیہ ضرور کما لیتے بلکہ ہوشیار آدمی تو آج کل کے گرے ہوئے زمانہ میں بھی دو اڑھائی سو روپیہ کمالیتا ہے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا اور قلیل گزارے پر ہی وقف کیا اور میں تو اس قسم کے وقف کو بغیر روپیہ کے کام کرنا ہی قرار دیتا ہوں کیونکہ جو کچھ ہماری طرف سے دیا جاتا ہے وہ نہ دیئے جانے کے برابر ہے۔اسی طرح اور کئی گریجوایٹ ہیں جو اپنی ذہانت کی وجہ سے اگر باہر کہیں کام کرتے تو بہت زیادہ کما لیتے مگر ان سب نے خوشی اور بشاشت کے ساتھ اپنی زندگی وقف کی ہے۔پس گو 619