تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 618

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 18 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول ظاہری علوم کے بھی ماہر اور سلسلہ کے تمام کاموں کو حزم اور احتیاط سے کرنے والے اور قربانی وایثار کانمونہ دکھانے والے ہوں۔اس غرض کے لئے تعلیمی اخراجات کے علاوہ ہمیں ان لوگوں کو گزارے بھی دینے پڑیں گے اور یہ گزارہ پندرہ روپے فی کس مقرر ہے۔اگر ایک گریجوایٹ بھی ہو تو اسے بھی ہم پندرہ روپے ہی دیتے ہیں زیادہ نہیں اور یہ اتنا قلیل گزارہ ہے کہ بعض یتامی اور مساکین کے وظائف اسی کے لگ بھگ ہیں مگر باوجود اس کے کہ گزارہ انہیں اتنا تھوڑا دیا جاتا ہے جتنا بعض یتامی اور مساکین کو بھی ملتا ہے وہ کام بھی کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی تمام زندگی خدمت دین کیلئے وقف کی ہوئی ہے۔سردست ہمارا قانون یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی شادی ہو جائے تو اسے ہیں روپے دیئے جائیں اور پھر بچے پیدا ہوں تو فی بچہ تین روپے زیادہ کئے جائیں اور اس طرح چار بچوں تک یہی نسبت قائم رہے گویا ان کے گزارہ کی آخری حد بتیس روپے ہے مگر یہ بھی اس وقت ملیں گے جب ان کے گھروں میں چھ کھانے والے ہو جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ گزارہ کم ہے۔اسی طرح بچوں کی حد بندی کرنی بھی درست نہیں اور اسے جلد سے جلد دور کرنا چاہئے مگر فی الحال ہماری مالی حالت چونکہ اس سے زیادہ گزارہ دینے کی متحمل نہیں اس لئے ہم اس سے زیادہ گزارہ نہیں دے سکتے اور انہوں نے بھی خوشی سے اس گزارہ کو قبول کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ بیوی کے لحاظ سے بھی پانچ روپے الا ؤونٹس کم ہے اور اسے بڑھانے کی ضرورت ہے، بچوں کے لحاظ سے بھی فی بچہ تین روپیہ گزارہ تھوڑا ہے اور اس میں زیادتی ہونی چاہئے مگر یہ سب کچھ مالی حالت کے سدھرنے پر موقوف ہے۔اسی طرح میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ بچوں کی حد بندی کرنی بھی درست نہیں کیونکہ نسل کا بڑھنا قومی لحاظ سے مفید ہوتا ہے لیکن بہر حال ابھی مالی دقتوں کی وجہ سے ہم عورت کے پانچ روپے اور فی بچہ تین روپے ہی مقرر کر سکے ہیں لیکن اگر ہم کسی وقت اس میں زیادتی بھی کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ کے لئے شاید ہمیں پچاس روپیہ سے زائد گزارہ مقرر نہیں کرنا پڑے گا۔حالانکہ جس قسم کی اعلی تعلیم میں انہیں دلانا چاہتا ہوں اس کے بعد اگر یہ کہیں ملازمت کرلیں تو تین چار سو روپیہ ماہوار سے ان کی تنخواہ شروع ہو لیکن پھر بھی خواہ ہم انہیں کس قدر قلیل گزارہ دیں جو کام یہ لوگ کریں گے آخر وہ روپیہ کا محتاج ہے۔ہم سے صدر انجمن احمدیہ کے کاموں میں یہ غلطی ہوئی ہے کہ عملہ کابل سائر سے زیادہ ہو گیا ہے یعنی صدر انجمن احمدیہ کے کارکنان کی تنخواہوں کا بجٹ سائز کے بجٹ سے بہت زیادہ ہے۔حالانکہ کام کو مفید بنانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ سائز کا بجٹ تنخواہوں سے کئی گنا زیادہ ہو۔شاید یہ مجبوری تھی لیکن اس غلطی سے تحریک جدید کے کام میں اجتناب ضروری ہے اور میرا ارادہ ہے کہ 618