تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 610

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول لیتے ہیں کہ اس دبانے کا نتیجہ کیا ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو جس رنگ میں بڑھایا ہے وہ کوئی پوشیدہ بات نہیں۔چاروں طرف ترقی کے آثار نظر آرہے ہیں۔کئی نئے ممالک ہیں جن میں احمدیت قائم ہوئی۔ہزاروں لوگ جو اس دوران میں احمدیت میں داخل ہوئے بلکہ قریب کے علاقہ میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت نے ترقی کرنی شروع کر دی ہے اور بعض جگہ بالکل نئی جماعتیں قائم ہوگئی ہیں اور بعض جگہ پہلے چھوٹی جماعتیں تھیں مگر اب بڑی جماعتیں ہوگئی۔میرے دل پر ان گالیوں کی وجہ سے ایک ناخوشگوار اثر تھا جو احرار ایجی ٹیشن کی وجہ سے ہمیں ملتی رہی ہیں اور اب بھی مل رہی ہیں کیونکہ گالیاں فتح اور شکست سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ گرا ہوا آدمی زیادہ گالیاں دیا کرتا ہے۔بہر حال میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ مسلمانوں نے اس موقعہ پر ہمارے ساتھ اچھا معاملہ نہیں کیا اور مجھے ان کی طرف سے رنج تھا۔شاید میرا گزشتہ سفر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت اسی غرض کیلئے تھا کہ تا میری طبیعت پر جو اثر ہے وہ دور ہو جائے۔میں نے اس سفر میں یہ اندازہ لگایا ہے کہ میرا وہ اثر که مسلمان شرفاء بھی اس گند میں مبتلا ہیں۔اس حد تک صحیح نہیں جس حد تک میرے دل پر اثر تھا۔مجھے اس سفر میں ملک کا ایک لمبا دورہ کرنے کا موقعہ ملا ہے۔پہلے میں سندھ گیا وہاں سے بمبئی گیا، بمبئی سے حیدر آباد چلا گیا اور پھر حیدر آباد سے واپسی پر دہلی سے ہوتے ہوئے قادیان آ گیا۔اس طرح گویا نصف ملک کا دورہ ہو جاتا ہے۔اس سفر کے دوران شرفا کے طبقہ کے اندر میں نے جو بات دیکھی ہے اس سے جو میرے دل میں مسلمانوں کے متعلق رنج تھا۔وہ بہت کچھ دور ہو گیا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ شریف طبقہ اب بھی وہی شرافت رکھتا ہے جو شرافت وہ پہلے دکھایا کرتا تھا اور ان خیالات سے جو احرار نے پیدا کرنے چاہے تھے وہ متاثر نہیں بلکہ ان کی گالیوں کی وجہ سے وہ ہم سے بہت کچھ ہمدردی رکھتے ہیں۔اگر مجھے یہ سفر پیش نہ آتا تو شاید یہ اثر دیر تک میرے دل پر رہتا اور میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے اس سفر کا موقعہ دیا اور وہ اثر جو میرے دل پر تھا کہ اتنے گند میں مسلمانوں کا شریف طبقہ کس طرح شامل ہو گیا؟ وہ اس سفر کی وجہ سے دور ہو گیا“۔میں نے بتایا ہے کہ دور اول کے بعد دور ثانی کی ضرورت ہے۔دور اول زمین کی صفائی کیلئے تھا اب دور ثانی میں تعمیر کی ضرورت ہے اور تعمیر کا کام تخریب سے بہت زیادہ اہم ہوتا ہے۔پس جو تخر یہی حصہ تھا یعنی دشمنوں کی کوششوں کو باطل کرنا اور ان کو ان کے منصوبوں میں ناکام و نامراد کرنا ، یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے پورا ہو چکا ہے اب تعمیری حصہ کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے جو دنیا میں ایسی فضا وو 610