تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 601

ٹریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 نومبر 1938ء دور اول میں تو دشمن گھونسے تانے ہمارے سروں پر کھڑا تھا۔اس وقت ہم میں جو بیداری پیدا ہوئی وہ اپنی جان بچانے کیلئے تھی مگر آج کوئی دشمن سامنے نہیں کھڑا اور اس طرح حملہ آور نہیں۔گو اندر ہی اندر آگ سلگائی جارہی ہے اور ایک لاوا ہے جو پک رہا ہے مگر وہ تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہے۔اس لئے آج کی قربانی دشمن کی مار کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔اس وقت قربانی خالص خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے ہوگی ، اس وقت ہمارے مد نظر صرف خدا تعالیٰ کے دین کو پھیلانے کیلئے مستقل کام کی بنیا د رکھنا ہے اور اس کے لئے میں چاہتا ہوں کہ ایک مستقل ریز روفنڈ قائم کر دوں جس سے یہ کام سہولت کے ساتھ چلتا ر ہے اور اس کے ساتھ نو جوانوں کی ایک ایسی جماعت تیار کروں جو اسلام کو صحیح معنوں میں قائم کرنے والی ہو۔یہ دونوں کام پہلے سے بہت زیادہ خرچ چاہتے ہیں لیکن باوجود اس کے میں نے کہہ دیا ہے کہ جو دوست زیادہ بوجھ نہ اٹھا سکیں ہر سال دس فیصدی چندہ تحریک میں سے کم کرتے جائیں۔گو میں نے اپنا چندہ گزشتہ سال سے بھی تیسرے سال کی نسبت دس فیصدی بڑھا دیا تھا۔بہر حال یہ دوسرا دور تحریک جدید کا آپ کے سامنے ہے۔مجھے اس سے غرض نہیں کہ آپ اس پر کس طرح عمل کرتے ہیں اگر آپ اس پر عمل نہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ کامیابی کا کوئی اور رستہ کھول دے گا مگر میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ دو مواقع قربانی کے آئے ہیں۔ایک وہ جب دشمن مار رہا تھا اور ایک خالص خدا تعالیٰ کی محبت میں قربانی کرنے کا۔اگر اس دوسرے وقت میں ہم نے سنتی دکھائی تو آئندہ زمانہ کے لوگ ہمارے متعلق کیا فیصلہ کریں گے وہ ظاہر ہی ہے۔آپ میں سے ہر ایک نے اپنی قبر میں جانا ہے اور میں نے اپنی میں۔میرے اچھے عملوں سے آپ لوگوں کو کوئی فائدہ نہ ہوگا اور آپ کے اچھے عملوں سے مجھے نہیں ہوگا۔ہر ایک اپنے اپنے اعمال کا خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔اگر وہ مجھے پوچھے گا کہ تم نے کیا قربانی کی ؟ تو اس کے جواب کا میں ذمہ دار ہوں۔تم اپنے لئے آپ سوچ لو کہ تم کیا جواب دو گے یا دے سکو گے ؟ میں جانتا ہوں کہ کل کو اگر کوئی اور قوم ہمارے مقابلہ کیلئے کھڑی ہو جائے تو سست دوست بھی قربانیاں کرنے لگیں گے مگر قیامت کے روز خدا تعالیٰ ان سے کہے گا بے شک تم نے قربانیاں کیں مگر میرے لئے نہیں بلکہ اپنی جان بچانے کے لئے۔اس وقت میں نے آپ لوگوں کے سامنے صرف اصول رکھ دیئے ہیں اور ان پر تبصرہ کر دیا ہے۔اس وقت میں کوئی تحریک نہیں کرتا صرف ایک تحریک کرتا ہوں کہ رمضان کا آخری عشرہ جو آنے والا ہے اس کو تحریک جدید کے متعلق سابق قربانیوں کے لئے شکریہ اور آئندہ کیلئے طاقت کے حصول کیلئے خرچ کرو۔جن کو گزشتہ سالوں میں قربانی کی توفیق ملی ہے وہ اس کیلئے اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا کریں اور ہر ایک دعا 601