تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 600
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود : 11 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول میں ہی سمجھتے ہیں۔ان کی آنکھوں کے سامنے وہ لڑائی نہیں جو غیر ممالک میں لڑی جارہی ہے اور جس میں ہمارے مجاہد نو جوان خون اور پانی ایک کر رہے ہیں اور احمدیت کے جھنڈے کو بلند کر رہے ہیں۔بے شک ان ممالک میں سے کوئی روپیہ یہاں نہیں آتا یا کم آتا ہے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ بیرونی ممالک کی جماعتوں کے چندہ کا 75 فیصدی مقامی طور پر خرچ کیا جائے اور صرف 25 فیصدی یہاں آئے اور جہاں ضرورت ہو سو فیصدی ہی وہاں خرچ کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے لیکن اس لڑائی میں ہمیں یہاں سے روپیہ نہیں بھیجنا پڑتا۔کیا یہ کم آرام کی بات ہے؟ بے شک ان کا روپیہ یہاں خزانہ میں جمع نہیں ہوتا اور جولوگ کامیابی کا اندازہ روپیہ سے کرنے کے عادی ہوئے ہیں وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ کوئی کام نہیں ہورہا مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ جماعتیں اپنے اپنے طور پر کافی خرچ کر رہی ہیں اور بعض بعض جماعتوں کے بجٹ دس دس اور پندرہ پندرہ ہزار کے ہوتے ہیں۔اگر وہ ساری رقمیں یہاں آئیں تو ہمارا بجٹ دگنا نہیں تو ڈیوڑھا تو ضرور ہو جائے گا مگر وہاں بھی ایک لڑائی جاری ہے اور ایسی صورت میں ہمارا وہاں سے روپیہ منگوانا بہت بڑی حماقت ہوگی۔گو کئی نادان وہاں سے روپیہ نہ آنے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ کوئی کام نہیں ہو رہا۔حالانکہ ان کے بجٹ ہزاروں کے ہوتے ہیں۔پھر تحریک جدید میں انہوں نے بھی پورے شوق سے حصہ لیا ہے اور بعض ممالک سے ڈیڑھ ڈیڑھ اور دو دو ہزار روپے بھی آتے رہے ہیں۔پس میں اپنی جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ عظیم الشان کام ہمارے سامنے ہے۔اگر وہ اس امر کے منتظر ہیں کہ تھپڑ پڑے تو اٹھیں تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تھپڑوں کی کمی نہیں مگر یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ انسان تھپڑ کھا کر بیدار ہو۔یہ نمونہ تو ہم نے دکھا دیا کہ کوئی ضرب لگائے تو بیدار ہو کر ہم ایسا مقابلہ کرتے ہیں کہ اس کی مثال نہیں ملتی اور اب تحریک جدید کے دور ثانی میں ہم نے یہ دکھانا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں بغیر مار کھائے بھی ہم ویسی ہی قربانی کرنے کو تیار ہیں اور اسی دور کی کامیابی پر اس سوال کا فیصلہ ہوگا کہ احرار کی مار کی ہمارے دلوں میں زیادہ عظمت ہے یا خدا تعالیٰ کی محبت اور اس سوال کا آپ جو بھی جواب دیں گے، اس سے آپ کی قیمت کا اندازہ ہوگا۔دور ثانی ایسی حالت میں شروع کیا گیا ہے کہ جب بظاہر کوئی خطرہ سامنے نہ تھا اور یہ اس لئے ہوا کہ تا اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر فخر کا موقعہ دے اور ہم بتا سکیں کہ جس طرح اگر دشمن ہمیں ذلیل کرنا چاہے تو ہم ایسی قربانی کرتے ہیں جس سے وہ نا کام ہو جائے اسی طرح خدا تعالیٰ کی محبت میں بھی اگر ہمیں قربانی کرنا پڑے تو پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ جماعت کے ایک حصہ نے دور ثانی کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔600