تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 591
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اؤل اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 11 نومبر 1938ء طرف جانے میں ہی ہے۔آپ نے اسلام کے وہ احکام جن کے متعلق مسلمان بھی معذرتیں پیش کرتے ! اور کہتے تھے کہ یہ خاص اوقات کیلئے ہیں نہایت جرات کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کئے اور ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ یورپ میں زلزلے آنے لگے اور بڑے بڑے فلاسفر اس طرف آنے پر مجبور ہو گئے اور وہ سمجھنے لگے کہ نئے مسائل ان کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔شراب اور سود میں حد بندیاں ہونے لگیں، طلاق کے مسئلہ میں آزادی ہوئی اور کثرت ازدواج میں جو سختی سے کام لیا جارہا تھا اس میں نرمی کی تحریک یورپ کے لوگوں میں شروع ہو گئی۔عریانی کے معاملہ میں بھی آزادی کی بڑھتی ہوئی رو میں کمی آنے لگی۔ان مسائل میں اسلام کی تعلیم کو پہلے حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور اسے اولڈ فیشن اور پرانے زمانہ کی تعلیم کہا جاتا تھا مگر اس کے بعد یورپ میں بھی جو زلزلے آئے اور جو حرکتیں ہوئیں انہوں نے نئے قوانین کی عمارتوں کو گرا کر لوگوں کو پھر اس تعلیم کی طرف آنے پر مجبور کیا جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پرانی تعلیم بتا کر پیش کیا تھا۔طلاق کے بارہ میں وسعت پیدا ہو رہی ہے۔یورپ میں ایک زبردست جماعت پیدا ہو رہی ہے جو یہ کہہ رہی ہے کہ کثرت ازدواج میں آزادی ہونی چاہئے۔سود کے بارہ میں حد بندیوں کی حامی بھی زبر دست جماعت پیدا ہوگئی ہے جن میں سے ہٹلر اور جرمن کی یونیورسٹیوں کے پروفیسر پیش پیش ہیں۔چند سال ہوئے برلن کی یونیورسٹیوں کے بعض پروفیسروں نے اپنی چھٹیاں اس لئے وقف کی تھیں کہ لوگوں کو جا کر سود کی برائیوں سے آگاہ کریں۔پہلے کون کہ سکتا تھا کہ یورپ جوان بیماریوں کو پیدا کرنے والا ہے وہی ان کے علاج کی طرف متوجہ ہو گا؟ یہ تغیرات آج سب لوگوں کو نظر نہیں آتے جو مجھے آتے ہیں۔بے شک یورپ ابھی شراب کو چھوڑ نہیں سکا۔طلاق میں بھی اسلامی تعلیم کو قائم نہیں کر سکا اور یہی حال دوسرے مسائل کا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس کا مزاج کس طرف مائل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج اور اصل چیز یہی ہے کہ یورپ کا مزاج اس طرف آرہا ہے اور جب اس طرف میلان ہو رہا ہے تو ایک نہ ایک دن ان احکام پر عمل بھی ہو کر رہے گا۔تمام قوم کو ایک ہی دن میں کسی بات پر قائم نہیں کیا جاسکتا۔ہماری جماعت جو خدا تعالیٰ کو مانتی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا نبی یقین کرتی ہے۔وہ کون سی ہر بات پر پوری طرح فورا عمل کرتی ہے۔بے شک بعض لوگ ایسے ہیں جو ہر اس بات پر جو پیش کی جاتی ہے فوراً عمل شروع کر دیتے ہیں مگر کئی ایسے ہیں جن کو ہموار کرنا پڑتا ہے۔جس طرح کوئی 591