تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 590

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول ان کو پڑھنے والے پرانی تفاسیر کو بغدادی قاعدہ سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ابھی جو بچے ہمارے باہر سے آئے ہیں ان میں سے عزیزم ناصر احمد سلمہ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ مغرب میں جو لوگ احمدیت کی طرف مائل ہورہے ہیں ان پر صرف یہ اثر ہے کہ قرآن کریم کی جو تفسیر ہماری طرف سے شائع ہوتی ہے اس سے وہ یہ مجھتے ہیں کہ قرآن کریم واقعی ایک زندہ کتاب ہے۔پہلے لوگ عیسائیت یا دہریت کی طرف مائل تھے وہ جب ہماری پیش کردہ تفسیر دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ او ہو یہ تو بہت بڑا خزانہ ہے اس لئے وہ واپس اسلام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ان پر نہ کوئی وفات کے دلائل کا اثر ہوتا ہے اور نہ ختم نبوت کا بلکہ صرف ہماری تفسیر کا۔جب وہ اسے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اب ہمیں معلوم ہوا کہ قرآن کریم واقعی ایک زندہ کتاب ہے۔ہم بے وقوفی سے اسے چھوڑ رہے تھے۔تو جو فہم قرآن کریم کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے دیا اور اصولی طور پر آپ نے ہمیں جس کی تعلیم دی ہے وہ اتنا بڑا اخزانہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ درمیان کے تیرہ سو سال کے تمام علوم اس کے سامنے بیچ ہیں۔پھر دوسری چیز حقیقت احکام اسلام ہے۔اس سے بھی مسلمان غافل تھے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معا بعد مسلمانوں نے اسلام کے احکام کی حقیقت سمجھنے سے غفلت برتنی شروع کر دی تھی۔صرف انہیں احکام قرار دے کر ان پر عمل ہونے لگا۔نماز کو ایک حکم سمجھ کر نماز ادا کی جاتی تھی اور روزہ کو ایک حکم سمجھ کر روزہ رکھا جا تا تھا مگر یہ بات کہ ان احکام کی حکمت کیا ہے؟ اس طرف سے توجہ بالکل ہٹ گئی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ احکام اسلام پر عمل کی رغبت نہ رہی یہاں تک کہ چوتھی صدی میں امام غزالی نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور احکام کی حکمتیں بتا کر ان کی طرف رغبت دلانے کی کوشش کی۔ان کے لٹریچر کے نتیجہ میں کچھ توجہ اس طرف ہوئی اور اس نے مسلمانوں کو کچھ فائدہ بخش مگر پھر نیند کا غلبہ ہوا اور احکام اسلام کے صرف لفظ رہ گئے اور روح مٹ گئی۔حتی کہ ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی کا زمانہ آیا۔انہوں نے بعض کتابیں لکھیں جن میں احکام اسلام کی حکمت بیان کی مگر ان کا دائرہ اثر بالکل محدود تھا اور صرف چند لوگ ہندوستان میں ایسے تھے جن پر ان کا اثر ہوا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ شخص قریب میں آنے والا تھا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس حکمت کو ظاہر کرنا تھا۔جب سورج چڑھنے والا ہو تو صبح کے ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی طرف نظر نہیں اُٹھا کرتی۔پس مسلمان غافل ہی رہے حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ آ گیا اور آپ نے اسلام کے احکام کی حکمت ایسے رنگ میں بیان کی کہ ہر ایک شخص کی سمجھ میں آگئی کہ یہ احکام ہمارے ہی نفع کے لئے ہیں اور دنیا پر یہ حقیقت ظاہر ہو گئی کہ دنیا کی نجات ان قوانین میں نہیں جو نئے نئے بنائے ہیں بلکہ قرآن کی 590