تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 572
تقریر فرموده 13 ستمبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول كلمة الحكمة اريد بها الباطل اسی طرح ان کا مفہوم غلط لیا جاتا ہے۔حالانکہ انسان کیلئے ضروری ہے کہ سرتوڑ کوشش کرنے کے بعد نتیجہ خدا کے سپر د کر دے مگر ایسا کوئی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔قومی ترقی کے لئے انفرادی قربانی بھی نہایت ضروری ہے تا کہ قوم سست نہ ہو جائے آج کل تو لڑائی میں ذمہ دار آدمی جب کسی کام میں کامیاب نہیں ہوتے تو یا تو حکومت ان کو گولی سے اڑا دیتی ہے یاوہ خود اپنے آپ کو مار لیتے ہیں یا لڑتے لڑتے خود مر جاتے ہیں لیکن تاریخ اسلام میں بھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک سالا رلشکر یعنی حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کو جب کہ وہ فتح پا کر واپس نہ آئے تو باوجودیکہ وہ فتح حاصل نہ کر سکتے میں معذور تھے پھر بھی ان کو یہ سزا دی کہ وہ مدینہ میں ان کے سامنے نہ آیا کریں اور اسی لشکر میں شامل ہو کر لڑنے والے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے فتح نہ حاصل کر سکنے کی وجہ سے جزیرہ عرب میں رہائش چھوڑ دی اور چین اور افغانستان میں چلے گئے اور اس طرح ان علاقوں میں اسلام پھیلانے کا ذریعہ ہوئے۔شریعت نے بھی لڑائی میں پیچھے ہٹنے والے کی سزا جہنم رکھی ہے۔تعداد کی قلت اور کسی دوسری معذوری کا سوال ہی نہیں ہوتا۔پس جو کامیاب نہیں ہوتا اسے اپنی اس ناکامی کی سزا بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔اسی واسطے فارم وقف زندگی میں اس شرط کو رکھا گیا ہے کہ پیش کرنے والا ہر قسم کی سزا کو بخوشی برداشت کرے گا اور اپنی ذمہ داری کا صیح اندازہ نہ لگانے کا ہی نتیجہ ہوتا ہے کہ ہمارا دماغ کام کا راستہ تلاش نہیں کرتا بلکہ بھاگنے کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔پس ہمیں یہ ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ بہادر انسان وہ ہے جو ہر قسم کی قربانی کر سکے نہ کہ کوئی خاص قسم کی قربانی تو کر سکے لیکن دوسری قسم کی قربانی نہ کرے۔اسی طرح وقت کی قربانی بھی ایک اہم ترین چیز ہے جس کا ایک نام waste of time ہے دنیا اسے گناہ کہتی ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ جب قربانی کے مقام پر کی جائے تو اعلیٰ درجہ کی قربانی ہے۔یہ شرعی مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص نماز کے انتظار میں ہوتا ہے تو اس کا وقت نماز میں ہی شمار ہوتا ہے اور اسے جہاد کا ثواب ملتا ہے۔بظاہر ایسا کرنا وقت کا زیاں کرنا ہوتا ہے حالانکہ اصل میں اس میں مقصود کی عظمت کا اقرار ہوتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہر وقت مسجد میں بیٹھے رہتے تھے اگر چہ بظاہر یہ ایک بے کا رسا کام معلوم ہوتا ہے لیکن اس کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے تین سال کے عرصہ بیعت میں اس قدر باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں کہ سابقون الاولون صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بھی کسی 572