تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 567

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود 22 جولائی 1938ء اور جو آپ اپنے کو بیدار کرنے والا ہو۔جو دوسرے کے سہارے کا محتاج ہے وہ ہر وقت خطرہ میں ہے۔اصل سہارا اللہ تعالیٰ کا ہی ہے جو کام آسکتا ہے۔پس ہر فردِ جماعت اپنے اندر یہ احساس پیدا کرے کہ سلسلہ کی ترقی مجھ پر منحصر ہے اور جب بچوں ، جوانوں، بوڑھوں اور مردوں عورتوں میں یہ احساس پیدا ہو جائے تو پھر تمہیں کوئی قوم ہلاک نہیں کر سکتی اور شیطان تم پر حملہ آور نہیں ہو سکتا۔جب انسان کے اندر غیرت پیدا ہو جائے تو وہ بڑے سے بڑے دشمن کی بھی پروا نہیں کرتا۔اس کے دل سے ڈرمٹ جاتا ہے۔یہی حال محبت کا ہے ان دونوں کے ہوتے ہوئے خوف کبھی انسان کے پاس نہیں آسکتا۔چھوٹے بچوں کو دیکھ لو کوئی مضبوط جوان آدمی ان پر حملہ کرتا ہے تو وہ ڈر کر بھاگتے ہیں مگر کبھی مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور مقابلہ کر لیتے ہیں اس لئے کہ وہ ارادہ کر لیتے ہیں اور ارادہ کی مضبوطی سے قومی کی مضبوطی بھی حاصل ہو جاتی ہے۔وو جس طرح پاگل پر جب جنون کا دورہ ہو تو اسے آٹھ دس آدمی بمشکل قابو کر سکتے ہیں اسی طرح مومن کو بھی جب وہ جوش کی حالت میں ہو اس کے مخالف دبا نہیں سکتے اور جتنا کسی کا ایمان مضبوط ہو اتنی ہی زیادہ طاقت اس کے اندر ہوتی ہے۔حتی کہ جب وہ نبی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو ساری دنیامل کر اسے پکڑنا چاہتی ہے مگر نہیں پکڑ سکتی۔پس اپنے اندر یہ ایمان پیدا کرو پھر کوئی خطرہ باقی نہیں رہے گا۔تحریک جدید کیلئے علیحدہ سیکرٹری مقرر کرنے کے لئے جو میں نے کہا تھا اس کی غرض یہ تھی کہ ایسے آدمی جو مستقل مزاج ہوں اور رات دن اپنے آپ کو اس کام میں لگائے رکھیں لیکن افسوس ہے کہ بعض سیکرٹری صرف نام کیلئے بن گئے ہیں اور کام کچھ نہیں کرتے۔ان کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خالی نام خدا تعالیٰ کے حضور کوئی فائدہ نہیں دے سکتا بلکہ نام حاصل کرنے سے پہلے ان پر کوئی الزام نہ تھا لیکن نام لینے کہ بعد اگر وہ کام نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ہوں گے۔اس لئے ہر سیکرٹری کو چاہئے کہ تن دہی سے کام کرے۔پہلے خود تحریک جدید اور اس کی ہدایتوں کا مطالعہ کرے اور پھر اس کے مطابق جماعت سے کام لے۔دیکھو یہ کتنا اہم کام ہے۔جلسہ سالانہ کے موقعہ پر دوستوں نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ ورثہ کی تقسیم شریعت کے مطابق کیا کریں گے اور عورتوں کو حصہ دیا کریں گے مگر منہ سے کہنا آسان ہے اور عمل مشکل ہے۔سیکرٹریوں کو دیکھنا چاہئے تھا کہ کیا اس کے مطابق کام ہوا اور اس عرصہ میں جو لوگ فوت ہوئے ان کا ورثہ مطابق شریعت تقسیم ہوا ؟ اگر نہیں تو انہوں نے اپنا فرض ادا نہیں کیا۔میرے پاس ایک مثال بھی ایسی نہیں آئی کہ کوئی زمیندار فوت ہوا ہو اور اس کا ترکہ شرع 567