تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 566

اقتباس از خطبه جمعه فرمود 22 جولائی 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول " تم لوگوں نے بھی کبھی غور کیا ہے کہ تمہارے سپر د جو کام کیا گیا ہے وہ صرف ایک قوم کو تم پہلے جب سے کہ آدم پیدا ہوا سپر د کیا گیا تھا۔حضرت نوح علیہ السلام آئے مگر ان کی تبلیغ کا دائرہ بہت محدود تھا، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے وہ بڑے عظیم الشان نبی تھے مگر صرف بنی اسرائیل کے لئے ، ہم داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کا ذکر کس عظمت کے ساتھ پڑھتے ہیں مگر وہ بھی محدود دائرہ کے لئے مبعوث ہوئے تھے ، پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی ہم کس قدر عزت کرتے ہیں مگر ان کا دائرہ بھی کتنا محدود تھا، پھر ہم حضرت کرشن اور رام چندرعلیہ السلام کی کتنی عزت کرتے ہیں مگر وہ بھی صرف ہندوستان کے لئے ہادی بن کر آئے تھے۔صرف ایک ہی قوم ہے جسے ساری دنیا کی ہدایت سپرد ہوئی اور وہ صحابہ نہیں اور ان کے بعد تم ہو۔اگر تم اس بات کو محسوس کرو اور اس عظمت کا خیال کرو کہ تم کو وہ فخر دیا گیا ہے جو صرف ایک قوم کو پہلے ملا ہے تو تمہارے اندر ایسی آگ پیدا ہو جائے جو تمہیں رات دن بے چین رکھے اور کبھی سستی نہ پیدا ہونے دے مگر مشکل یہ ہے کہ حقیقت کو سمجھنے والے بہت ہی کم ہیں۔بہت لوگوں نے احمدیت کو مان تو لیا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ کی عظمت کا احساس ان کے اندر پیدا نہیں ہوا۔وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں جھگڑتے ہیں لڑتے ہیں، ذرا ذراسی باتوں پر ٹھوکریں کھاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان کو تخت پر بٹھایا مگر وہ اس تختہ کے ساتھ چھٹے بیٹھے ہیں جس پر مردہ کی لاش قبرستان کو لے جائی جاتی ہے۔میں پھر ایک دفعہ جماعت کو متوجہ کرتا ہوں کہ وہ نہ صرف تحریک جدید کے مالی حصہ کی طرف توجہ کریں، بے شک وہ بھی بہت ضروری ہے مگر دوسرے مطالبات پر عمل کرنے بھی بہت ضرورت ہے۔جب تک سب دوست ذاتی اصلاح کے علاوہ نظام کو مضبوط کرنے میں نہ لگ جائیں اور تمام افراد اپنے آپ کو ایک عضو سمجھیں ، مستقل وجود نہ سمجھیں، شرعی احکام کی پوری طرح پابندی نہ کریں اور نہ کرنے والوں کے خلاف ایسا اقدام نہ کریں کہ آئندہ کسی کو جرات نہ ہو۔اس وقت تک جماعت وہ فرض ادا نہیں کر سکتی جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے قائم کیا ہے۔پس میں مختصر الفاظ میں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تحریک جدید کے مالی حصہ کی طرف بھی اور دوسرے حصوں کی طرف بھی توجہ کریں اور اپنے قلوب میں ایسی صفائی پیدا کریں کہ بار بار یاد دہانی کی ضرورت نہ رہے۔جو شخص یاد دہانی کا محتاج ہو اس کا ایمان ہر وقت خطرہ میں ہے۔کیا خبر ہے کہ یاد کرانے والا کس وقت اس سے جدا ہو جائے اور اس صورت میں جس وقت وہ یاد کرانے والا گیا اس کا ایمان بھی ساتھ ہی جائے گا۔وہی ایمان وقت پر کام آ سکتا ہے جس کیلئے کسی بیرونی یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو 566