تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 550

خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول نے کہا کہ اس کے ہاں کھانا کھانا ظلم نہیں تھا بلکہ انکار کر ناظم تھا کیونکہ میرے انکار سے یہ ضرور محسوس کرتا کہ میں چونکہ غریب ہوں اس لئے انکار کیا گیا ہے۔پس جو اعتراض اس دوست نے کیا اس کے بالکل الٹ اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے۔اسلام یہ کہتا ہے کہ کوئی ایسی امارت نہ ہو جو غربت کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھے اور کوئی ایسی غربت نہ ہو جو غریب کے لئے وبال جان بن جائے۔یہ خیال بہت دور کا ہے۔ایسا ہی دور جیسے دنیا میں جنت کا خیال۔مگر ایک دفعہ اسلام اس مقصد کو پورا کر چکا ہے اور اب دوسری دفعہ اس مقصد کا پورا ہونا ناممکن نہیں۔پس ضرورت ہے کہ ہم اس عظیم الشان مقصد کے لئے داغ بیل ڈالیں اور اس عظیم الشان محل کی بنیادیں رکھ دیں جس کی تعمیر اسلام کا منشا ہے۔بے شک ہمارے لئے بہت بڑی دقتیں ہیں۔ہم دوسروں کے محکوم ہیں اور ہمارے لئے ان قواعد کی پابندی لازمی ہے اور بعض دفعہ ہماری ایک نیک خواہش کا بھی وہ یہ مفہوم لے لیتے ہیں کہ گویا ہم بادشاہ بننا چاہتے ہیں۔حالانکہ ہم بادشاہ نہیں بلکہ خادم بننا چاہتے ہیں لیکن بنی نوع انسان کی خدمت کیلئے ابھی لازمی ہے کہ کوئی قانون جاری کیا جائے۔اس قانون کا نام بادشاہت کی خواہش رکھ لینا انتہائی نادانی اور نا واقفیت ہے۔ہماری غرض صرف یہ ہے کہ ایسے اصول دنیا میں جاری کر دیں۔جن کے ما تحت امارت و غربت کا امتیاز جاتا رہے اور بنی نوع انسان کو نہایت آرام سے خدا تعالیٰ کے ذکر اور اپنی ترقی کے لئے جدو جہد کرنے کا موقع مل جائے۔کئی چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میری خواہش ہے کہ انہیں اس وقت دور کر دینا چاہئے مگر وہ چونکہ حکومت سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے انہیں دور نہیں کیا جا سکتا اگر اسلامی حکومت ہوتی تو میں کہتا کہ ان باتوں کو ابھی دور کر دو مگر چونکہ حکومت غیر ہے اس لئے محبت، پیار اور آہستگی کے ساتھ قدم آگے بڑھانا ضروری ہے اور اس دن کا انتظار کرنا چاہئے جب اللہ تعالیٰ ہمارے حاکموں کے دلوں کو کھول دے ورنہ ان احکام کی ضرورت آج بھی اسی طرح قائم ہے جس طرح آج سے تیرہ سوسال پہلے قائم تھی۔سادہ زندگی کے متعلق آج کل ہمیں ایک اور نقطہ نگاہ سے بھی غور کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ یہ ایام سلسلہ کیلئے سخت نازک ہیں اور جماعت نے کئی قسم کے چندوں کے وعدے کئے ہیں جن کا اثر ایک دو سال تک رہے گا۔پس اس لحاظ سے یہ نہایت ہی ضروری امر ہے کہ سادہ زندگی اختیار کی جائے۔اگر ایک باپ کا اپنے بچوں کے اخراجات پر یا خاوند کا اپنی بیوی کے زیورات پر اسی طرح روپیہ خرچ ہو رہا ہو جس طرح پہلے خرچ ہوا کرتا تھا تو اسے دین کی خدمت کا موقع کس طرح مل سکتا ہے۔اگر وہ زیورات پر روپیہ خرچ 550