تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 544
خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اسے ان معمولی باتوں کی طرف توجہ کی فرصت ہی کب مل سکتی ہے؟ اسی طرح کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ آپ بیٹن اوپر نیچے لگا لیتے یعنی اوپر کا بٹن نچلے بٹن کے کاج میں اور نیچے کا بٹن اوپر کے بٹن کے کاج میں لگا رابھی اور تاہے تو دیتے۔میرا بھی یہی حال ہے دوسرے تیسرے دن بٹن اوپر نیچے ہو جاتے ہیں اور کوئی دوسرا بتا تا ہے تو درستی ہوتی ہے۔گو بوٹ کے متعلق اب تک میرے ساتھ ایسا کبھی واقعہ نہیں ہوا کہ بایاں بوٹ میں نے دائیں پاؤں میں پہن لیا ہو اور دایاں بوٹ بائیں پاؤں میں اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ میرے پاؤں پربھنوری ہے اور ڈاکٹر نے مجھے بچپن سے ہی بوٹ پہنے کی ہدایت کی ہوئی ہے اور چونکہ بچپن سے ہی مجھے بوٹ پہننے کی عادت ہے اس لئے ایسا کبھی اتفاق نہیں ہوا لیکن حضرت مسیح موعود کے ساتھ تو اکثر ایسا ہوا کہ چلتے چلتے آپ کو ٹھو کر گئی اور کوئی دوسرا دوست بتاتا کہ حضور نے گرگابی الٹی پہنی ہوئی ہے اور آخر آپ نے انگریزی جوتی پہنی بالکل ترک کر دی۔تو انسانی دماغ جب ایک طرف سے فارغ ہو بھی دوسرا کام کر سکتا ہے۔اگر ہم اپنے دماغ کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف لگا دیں تو اسلام کی ترقی کے کام کب ہم کر سکیں گے ؟ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے کھانے اور لباس میں انسان کو سادگی کا حکم دیا تا کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنے کی بجائے اہم امور کی طرف توجہ کرے۔پس لباس کے متعلق بھی میں سمجھتا ہوں کہ جو قیود میری طرف سے عائد کی گئی تھیں ان کا قائم رہنا ضروری ہے۔فیتوں کے متعلق بھی بعض دوستوں نے دریافت کیا ہے کہ آیا اس کے متعلق عورتوں پر جو پابندی عائد کی گئی تھی اس کا وقت گزر گیا ہے یا ابھی جاری ہے ؟ سو اس کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ پابندی بہر حال قائم ہے کیونکہ کپڑے خواہ کتنے گراں ہوں ایک لمبے عرصہ تک کام دے سکتے ہیں مگر فیتے چونکہ لباس پر صرف ٹانکے جاتے ہیں اور ہر روز بدلے جاسکتے ہیں اس لئے ہر نئے فیشن کو دیکھ کر عورتیں ریجھ جاتی ہیں اور نیا فیتہ خرید کر پہلے فیتے کی جگہ لگا لیتی ہیں اور میرا تجربہ ہے کپڑوں پر اتنی قیمت نہیں لگتی جتنی کہ ایک فیشن پرست عورت کے فیتوں پر کیونکہ فیتے بدلتے چلے جاتے ہیں۔پس مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ میں اس میں تغیر کروں بلکہ میں کہتا ہوں ہمیں آہستہ آہستہ ابھی بعض اور قید میں اس بارہ میں بڑھانی پڑیں گی۔لیکن چونکہ میں ابھی تک ان امور کے متعلق غور کر رہا ہوں اس لئے ابھی ان کا ذکر نہیں کرتا۔زیورات کے متعلق میں یہ اجازت دے چکا ہوں کہ شادی بیاہ کے موقعہ پر نیاز یور بنوانا جائز ہے 544