تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 541

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 4 فروری 1938ء اجازت میں پچھلے دور میں دے چکا ہوں اور اس دور میں پھر اس کو ہرا دیتا ہوں کہ جن علاقوں میں یہ رواج ہے کہ تھوڑا سا خشک سالن وہ چاولوں کے ساتھ استعمال کرنے کے لئے الگ پکاتے ہیں اور ایک پتلی دال جو بالکل پانی کی طرح ہوتی ہے الگ پکاتے ہیں تا کہ چاول گیلے ہو کر آسانی سے ہضم ہوسکیں۔انہیں پتلی دال استعمال کرنے کی اجازت ہے کیونکہ یہ پتلی دال وہاں غذا نہیں سمجھی جاتی بلکہ غذا صرف خشک سالن اور چاول ہوتی ہے۔یہ دال صرف اس لئے ملائی جاتی ہے تا کہ چاول گیلے ہو جائیں اور انہیں نگلنے میں آسانی ہو۔یہ استنی اگر چہ میں نے پچھلے دور میں کر دیا تھا مگر اس دور میں پھر اس کو دہرا دیتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ وہ دال پتیلی دال تک ہی محدود ہو اگر اس دال کو خود ایسا گاڑھا اور مرغن بنالیا جائے کہ وہ سالن کا کام دے سکے تو پھر اس کی اجازت نہیں۔خطبوں میں تو مجھے یاد ہے لیکن یہ یاد نہیں کہ کسی خطبہ میں بھی میں بیان کر چکا ہوں یا نہیں کہ اچار اور چٹنی اگر سادہ ہو اور بطور مصالحہ یا ہاضم کے اسے استعمال کیا جائے تو کھانے کے ساتھ اس کا استعمال جائز ہے لیکن بعض ملکوں میں چٹنی بھی سالن کا قائم مقام کبھی جاتی ہے۔پس جب چٹنی میں بھی تکلف کی کوئی صورت ہو اور سالن کے قائم مقام سمجھی جا سکے تو پھر اس کے استعمال میں بھی احتیاط کرنی چاہئے۔ہر شخص کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے اور فائدہ اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے جب انسان حجت اور حیلہ سازی سے کام نہ لے۔اگر چٹنی اور اچار صرف چٹنی اور اچار کی حد تک ہی ہو اور اس کے استعمال کی غرض یہ ہو کہ ہاضمہ درست ہو اور کھانا ہضم ہو جائے تو اس کا استعمال جائز ہے لیکن اگر وہ سالن کے قائم مقام ہو تو پھر کسی دوسرے سالن کے ساتھ اس کا استعمال جائز نہیں اور یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض علاقے ایسے ہیں جہاں چٹنیاں ہی چٹنیاں بنا کر کھاتے ہیں کوئی الگ سالن استعمال نہیں کرتے۔ایک دفعہ جب میں شملہ میں تھا تو ایک رئیس میری ملاقات کیلئے آئے۔ان سے دوران گفتگو کہیں میں نے ذکر کر دیا کہ سنا ہے کہ آپ کے وطن میں کھانے اور قسم کے ہوتے ہیں؟ اس کے بعد مجھے اس بات کا کوئی خیال نہ رہا۔انہوں نے میری دعوت کی۔جب میں ان کے ہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ چھوٹی چھوٹی پیالیاں آئی شروع ہو گئیں جن میں مختلف قسم کی چٹنیاں تھیں۔میں نے ان چٹنیوں کو کچھ چکھا اور پھر چھوڑ دیا اور دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔اب میں یہ انتظار کرتارہا کہ کھانا آئے تو میں کھاؤں مگر کھانا کوئی نہ آیا یہاں تک کہ گیارہ بج گئے اور ہم وہاں سے رخصت ہو گئے۔راستہ میں میں نے حافظ روشن علی صاحب مرحوم سے، جو میرے ساتھ تھے، پوچھا کہ کیا آج ہماری یہاں دعوت نہیں تھی؟ اور کیا ہمیں غلطی تو نہیں لگی کہ ہم دعوت کے خیال 541