تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 540
خطبہ جمعہ فرموده 4 فروری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول تقریب کے اکٹھے ہوں اور ان کے لئے ، جمعہ کے استثنیٰ کے علاوہ ، ایک سے زائد کھانے تیار کر لئے جائیں اور خود بھی دو دو کھانے کھالئے جائیں۔غرض میری یہ اجازت اس حالت کے لئے ہے جب غیر لوگ مہمان ہوں یا اپنے عزیزوں کی خاص دعوت ہو۔میں سمجھتا ہوں اس سے زیادہ کوئی اور سہولت دینا سوائے تکلف کے اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔مثلاً اگر مہمان کے لئے تین چار کھانے پکائے جائیں تو میزبان کو مہمان کے ساتھ سب کھانے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اسے زیادہ سے زیادہ دو کھانے کھانے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور اگر یہ ان کھانوں میں سے دو کھانے کھالے گا تو مہمان کو یہ اصرار نہیں ہو گا کہ ضرور تین کھانے کھاؤ۔مہمان کی طرف سے اسی وقت اصرار ہوتا ہے جب یہ صرف ایک کھانا کھاتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں یہ عام دستور ہے کہ روٹی سالن ایک کھانا سمجھا جاتا ہے اور چاول دوسرا کھانا۔اب جب یہ صرف روٹی سالن پر اکتفا کرتا ہے اور چاول نہیں کھاتا تو مہمان کو یہ بات چیھتی ہے لیکن اگر یہ روٹی سالن بھی کھا لے اور چاول بھی کھالے تو مہمان یہ اصرار نہیں کرے گا کہ اب ضرور فلاں چیز بھی کھاؤ کیونکہ وہ خیال کرے گا کہ جو چیز اسے پسند تھی اس نے کھالی اگر فلاں چیز یہ نہیں کھانا چاہتا تو نہ کھائے۔پس چونکہ صرف روٹی سالن کھانے سے ایک امتیاز معلوم ہوتا ہے اور مہمان کو یہ بات چھتی ہے اس لئے دوسرا کھانا کھانے کی بھی اجازت ہے۔اس طرح میں سمجھتا ہوں مہمان پر اس کا طریق عمل گراں نہیں گزرے گا کیونکہ جب مثلاً دستر خواں پر دو سالن ہوں گے اور یہ صرف ایک سالن استعمال کرے گا تو وہ خیال کرے گا کہ اس نے ایک سالن تو استعمال کر لیا دوسرا نہیں کیا تو نہ کرے کیونکہ ایک سالن دوسرے سالن کا قائم مقام ہو جاتا ہے لیکن چونکہ ہمارے ملک میں روٹی چاول کا قائم مقام نہیں سمجھی جاتی اس لئے مہمان کو یہ امر چبھتا ہے کہ میزبان نے مثلاً خالی چاول کھائے ہیں یا صرف روٹی کھائی ہے اور اسے بھی دوسری اشیاء استعمال کرنے میں حجاب ہوتا ہے۔ہاں ایک اور استنثٹی میں گزشتہ سالوں میں کر چکا ہوں وہ قائم ہے اور وہ رسمی یا حکام کی دعوتوں کے متعلق ہے۔ایسی دعوتوں میں ایک سے زائد کھانے کھانا یا کھلانا جو ملک کے رواج کے مطابق ضروری ہوں، جائز رکھا گیا ہے اور اب بھی جائز ہے۔بعض ملکوں میں جیسے بنگال اور بہار کے علاقے ہیں۔چاولوں کے ساتھ ایک پتیلی دال پکاتے ہیں جس کی غرض محض چاولوں کو گیلا کرنا ہوتی ہے۔اس کی 540