تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 533

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه فرمودہ 28 جنوری 1938ء " جماعت سے قربانی کے مطالبہ کی پہلی قسط خطبہ فرمودہ 28 جنوری 1938ء تحریک جدید کے دوسرے دور کے متعلق میں نے جو یہ کہا ہے کہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا میں اسلامی اخلاق قائم کر سکیں۔یہ بات بھی اس کا ایک حصہ ہے۔میں نے پچھلے سال بعض خطبات بیان کئے تھے۔جن میں بتایا تھا کہ زبانی دعووں سے ہم دنیا کو مرعوب نہیں کر سکتے۔یہ کام عمل سے ہی ہو سکتا ہے۔عقائد کے لحاظ سے ہم نے دنیا میں غلبہ حاصل کر لیا ہے۔مگر عملی لحاظ سے ابھی ایسا نہیں کر سکے۔پس ہمیں سوچنا چاہئے کہ ابھی تک ہم ایسا کیوں نہیں کر سکے؟ اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ ایمان سے عادت کا گہرا تعلق نہیں ہوتا مگر عمل سے ہوتا ہے مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کا مسئلہ ہے۔اس سے عادت کا کوئی تعلق نہیں۔جس دن کسی شخص کے دماغ میں یہ بات آجائے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں اس کے بعد اس پر عادت کے حملہ کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہتا کیونکہ خیالات کا تعلق عادت سے بہت ہی کم ہوتا ہے اور جب خیال کی اصلاح ہو جائے تو عادت خود بخود پیچھا چھوڑ دیتی ہے مگر عمل کے ساتھ عادت کا بہت گہرا تعلق ہے۔اس لئے صرف عقائد کی اصلاح سے اعمال کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔"3 میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے نوجوان جو ہمیشہ ایسے مواقع پر اپنے ایمان کا ثبوت دیتے چلے آتے ہیں۔آج بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔اس وقت پانچ انگریزی کے بعد دس بارہ عربی کے گریجوایٹ اس صیغے میں کام کر رہے ہیں اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ قربانی نو جوانوں کے لئے ناممکن نہیں۔میرا انشاء یہ ہے کہ تحریک جدید کے ماتحت وقف کرنے والے نوجوانوں کو دینی و دنیوی علوم میں پوری مہارت پیدا کرائی جائے تاوہ حسب ضرورت سلسلہ کے ہر کام کو سنبھالنے کے قابل ہوں اور اگر مالی طور پر انہیں دوسروں سے زیادہ قربانیاں کرنی پڑیں تو عملی طور پر انہیں بدلہ بھی دوسروں سے زیادہ مل جائے۔یہ پہلی قسط ہے، جماعت سے قربانی کے مطالبہ کی جو میں جماعت کے سامنے پیش کرتا ہوں اور پھر خلاصہ اسے دہرا دیتا ہوں۔1۔سچائی اور دیانت کا اقرار اپنے تمام کاموں میں عملاً اس کا اظہار حتی کہ غیر لوگ بھی اس کا 533