تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 529

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 21 جنوری 1938ء حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں اس کی نیکی کو جانتا ہوں اور اس کے مقام کو پہچانتا ہوں لیکن یہ رسم میں نہیں ڈالنا چاہتا کہ ایک خلیفہ اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ مقرر کر دے اور خصوصاً جب کہ اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم زندہ موجود ہیں اس لئے میں اس کو مشورہ میں تو شامل رکھوں گا لیکن خلافت کا امید وار قرار نہیں دوں گا۔یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے وہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات کہتے سنا تو وہ چادر جو میں نے اپنے پاؤں کے گرد لپیٹ رکھی تھی اس کے بند کھولے اور ارادہ کیا کہ کھڑا ہو کر کہوں کہ اے معاویہ رضی اللہ عنہ! اس مقام کا تجھ سے زیادہ حق دار وہ ہے جس کا باپ تیرے باپ کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو کر لڑتا رہا ہے اور جو خود اسلامی لشکر میں تیرے اور تیرے باپ کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے کلمہ کے اعلا کے لئے جنگ کرتا رہا ہے مگر پھر مجھے خیال آیا کہ یہ دنیا کی چیزیں ان کے لئے رہنے دو اور اسلام میں ان باتوں کی وجہ سے فتنہ مت پیدا کرو اور میں پھر بیٹھ گیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف میں نے کوئی آواز نہ اٹھائی۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کی خاطر قربانیاں کیں اور یا تو وہ ان کے دنیوی ثمرات پیدا ہونے سے پہلے ہی فوت ہو گئے یا پھر ان کے زمانہ میں وہ ثمرات ظاہر ہوئے لیکن انہوں نے یا تو با وجود مقدرت کے ان ثمرات میں سے حصہ نہیں لیا اور یا پھر وہ ثمرات دوسروں کے ہاتھوں میں جاتے ہوئے دیکھے مگر اپنا حصہ خدا کی رضا میں سمجھ کر ان ثمرات کی طرف سے آنکھیں پھیر لیں اور حقارت سے ان کو ٹھکرا دیا۔یہی لوگ ہیں جو ایمان کا سچا نمونہ دکھانے والے ہیں اور انہی کے نقش قدم پر چل کر انسان مومن کہلا سکتا ہے لیکن وہ شخص جو تھوڑی سی قربانی کرتا اور اس کے بعد تھک جاتا ہے اور اس امید میں لگ جاتا ہے کہ خدا کی طرف سے اس کے لئے کیا بدلہ آیا ہے؟ اس کو خدا کی رحمتیں نہیں آتیں بلکہ بزعم خود قربانیاں خود اسی کے منہ پر ماری جاتی ہیں کیونکہ گو خدا قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے لیکن اس کا مطالبہ سائلوں کی طرح نہیں ہے۔خدا کا مانگتے وقت ہاتھ نیچا نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے جس طرح حکومتیں لوگوں سے ٹیکس لیتی ہیں مگر وہ ذلت کے ساتھ نہیں مانگتیں۔خدا تعالیٰ اس سے بھی زیادہ شان کے ساتھ مطالبہ کرتا ہے کیونکہ حکومتیں تو لوگوں کے روپیہ سے فائدہ اٹھاتی ہیں مگر خدا تعالیٰ بندوں کی قربانیوں سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ اس کا سارا فائدہ بندوں کو ہی پہنچتا ہے۔جو عقلمند ہوتے ہیں وہ تو کوشش کرتے ہیں کہ ہماری جسمانی قربانیوں کا روحانی فائدہ ہمیں مل جائے اور جو کم عقل ہوتے ہیں وہ جسمانی فائدے کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور قومی لحاظ سے وہ بھی ان کو مل ہی جاتا ہے۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خدا کا کوئی نبی آیا ہو اور جلد یا بدیر اس کی قوم میں حکومت نہ آگئی ہو۔پس حکومتیں تو آتی ہیں اور دنیوی 529