تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 528
اقتباس از خطبه جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1938ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہو نہ اس لئے کہ ہماری قربانیوں کا زمانہ ختم ہو کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے بچے شیدا ہوتے ہیں ان کی منزل مقصود کوئی دنیا کی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ وصال الہی ان کا منزل مقصود ہوتا ہے اور وہ ہر دم اور ہر لحظہ انہیں حاصل ہوتا چلا جاتا ہے۔پس وہ یہ کبھی نہیں دیکھتے کہ ان کی مادی قربانیوں نے کیا مادی نتائج پیدا کئے ہیں اور وہ اپنے بوئے ہوئے درختوں کو اس لالچ سے نہیں دیکھتے کہ وہ ان کے ثمرات کھا ئیں گے بلکہ وہ انہیں چھوڑ دیتے ہیں دوسروں کے لئے کہ وہ ان کے ثمرات کھائیں اور وہ اپنی کوششوں کا ثمرہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کی صورت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کس نے قربانیاں کی ہیں اور کون قربانیاں کر سکتا ہے؟ لیکن آپ کو ہم دیکھتے ہیں کہ انہی قربانیوں میں آپ اس جہان سے گزر گئے اور اس دنیا کی ترقیات کا زمانہ آپ کی زندگی میں نہیں آیا۔قیصر و کسری کے خزانے جو اُن قربانیوں کے نتیجہ میں حاصل ہوئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھیں وہ جا کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فتح ہوئے اور ان کا فائدہ زیادہ تر ان لوگوں نے حاصل کیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ابو جہل اور ابوسفیان کے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں ایمان لائے اور فتوحات کے زمانہ میں تھوڑے سے عرصہ کے لئے لڑائیوں میں بھی شامل ہوئے اور پھر فتوحات میں حصہ دار بن کر ہر قسم کی راحت و آرام حاصل کرنے والے ہو گئے اور وہ جنہوں نے قربانیاں کی تھیں اور جو آسمان سے اس بہشت کو کھینچ کر لائے تھے وہ اپنے خدا کے پاس مدتوں پہلے جاچکے تھے یا ان چیزوں سے مستغنی ہو کر اپنے رب کی یاد میں بیٹھے تھے یا خدمت خلق میں مشغول تھے۔کیا عجیب نظارہ ہمیں نظر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد معاویہ ہزاروں مسلمانوں کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں۔وہی معاویہ جو فتح مکہ تک برابر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑتے رہے تھے اور کھڑے ہو کر مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے مسلمانو ! تم جانتے ہو ہمارا خاندان عرب کے رؤسا میں سے ہے اور ہم لوگ اشراف قریش میں سے ہیں۔پس آج مجھے سے زیادہ حکومت کا کون مستحق ہو سکتا ہے اور میرے بیٹے سے زیادہ کون مستحق ہو سکتا ہے؟ اس وقت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک کو نہ میں بیٹھے ہوئے تھے وہ عبداللہ بن عمر جن کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے خلافت کا حق دار قرار دیا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے خواہش کی تھی کہ آپ اپنے بعد ان کو خلافت پر مقررفرما ئیں کیونکہ مسلمان زیادہ سہولت سے ان کے ہاتھ پر جمع ہو جائیں گے اور کسی قسم کے فتنے پیدا نہیں ہوسکیں گے لیکن 528