تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 512
اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول مطالبات کے پورا کرنے میں حصہ نہیں لیا تو اس سے یہ امید کس طرح کی جا سکتی ہے کہ وہ اگلی سکیموں پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو گا؟ کسی کو کیا پتہ کہ اگلی سکیم کیسی ہو اور اس کے لئے کتنی بڑی قربانیوں اور ایثار کی ضرورت ہو؟ لیکن اگر آپ یہ چھوٹی چھوٹی قربانیاں کریں گے اور شوق سے ان میں حصہ لیں گے تو اللہ تعالٰی آپ کو ان سے بڑی بڑی قربانیوں کی توفیق عطا فرما دے گا۔پس اس طرف میں خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔جو دوست یہاں بیٹھے ہیں وہ توجہ کریں لیکن یاد رکھیں کہ میرا یہ حکم نہیں کہ واجبی چندوں کو نظر انداز کر کے اس میں حصہ لو بلکہ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ یہ ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کے مستقل چندے ضروری ہیں۔ہاں ان کے علاوہ اپنی خوشی سے تم اس تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہو تو ہو جاؤ۔اسی طرح تحریک جدید کے بقایوں کے متعلق بھی لوگوں کو جا کر کہو اور انہیں مجبور کرو کہ یا تو وہ اپنے بقائے ادا کریں اور اگر بقائے ادا کرنے سے معذور ہیں تو پھر معافی مانگ لیں۔میں فراخ دلی سے انہیں معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔ہیں۔اس کے بعد اصولی طور پر میں ان آیات کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اس وقت میں نے تلاوت کی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الصف:2) اے انسان تیرے سوا جتنی بھی مخلوق ہے وہ بلا استثنا تیح الہی کر رہی ہے اور اللہ تعالی کی پاکیزگی ثابت کر رہی ہے۔صرف ایک تیرا وجود ہی ہے جو استثناء رکھتا ہے۔باقی سب اپنے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں۔یہاں تک کہ شیطان بھی اور فرشتے بھی اور نیچر بھی۔غرض زمین و آسمان کی کوئی چیز ایسی نہیں جو تسبیح نہ کر رہی ہو۔وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الصف:2) اور خدا غالب حکمت والا ہے۔یعنی دنیا ثبوت دے رہی ہے اس بات کا کہ خدا حکمت والا ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ وَمَا لَا تَفْعَلُو پھر فرماتا ہے:۔أنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:3,4) 512