تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 510
اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہر شخص کی اپنی مرضی پر منحصر ہے تو اپنی خوشی سے کئے ہوئے وعدے کے پورا کرنے میں بھی اگر ستی پائی جائے تو کس قدر قابل افسوس ہے۔پہلے سال تحریک جدید کے چندہ کے متعلق ایک لاکھ دس ہزار کا وعدہ کیا گیا اور ۹۸ ہزار وصول ہوا۔گویا بارہ ہزار بقایارہ گیا۔دوسرے سال ایک لاکھ سترہ ہزار کا وعدہ کیا اور ایک لاکھ چھ ہزار وصول ہوا۔اس طرح دوسرے سال بھی گیارہ ہزار کا بقایا رہ گیا۔اب تیسرے سال کے لئے گو ایک لاکھ چوالیس ہزار کے وعدے ہو چکے ہیں اور ابھی اور وعدوں کی توقع ہے لیکن اس وقت تک وصولی بہت کم ہوئی ہے۔میرے اندازہ میں اس وقت تک باون ہزار سے اوپر آچکنا چاہئے تھا مگر وصول صرف ۳۱ ہزار ہوا ہے۔میں نے بار ہا توجہ دلائی ہے کہ تحریک جدید کا چندہ جلد سے جلد ادا کرنا چاہئے اور ابتدائی مہینوں میں ہی ادا کر دینا چاہئے مگر دوست اس کی ادائیگی میں پھر بھی غفلت سے کام لیتے ہیں۔اب میں نے اخبار میں ایک نوٹ لکھ کر جماعتوں کو پھر توجہ دلائی تو میں دیکھتا ہوں اس کا اثر ہو رہا ہے اور اب چندہ کی ادائیگی کی رفتار بڑھ رہی ہے مگر اتنی نہیں جس سے امید کی جاسکے کہ سال بھر میں تمام چندہ پورا ہو جائے گا۔حالانکہ اکثر دوستوں کے یہ وعدے تھے کہ وہ مئی جون تک تمام رقم ادا کر دیں گے۔اگر طوعی اور اپنی مرضی کے چندوں میں بھی دوست اس قسم کی سستی دکھا ئیں تو جبری چندوں میں ان کا تساہل کہاں تک پہنچ سکتا ہے؟ پس میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان چندوں کی ادائیگی کی طرف خود بھی توجہ کریں اور اپنی اپنی جماعتوں میں جا کر دوسرے لوگوں کو بھی توجہ دلائیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے جماعت میں اب آہستہ آہستہ تحریک ہو رہی ہے اور چندہ کی ادائیگی کی رفتار میں سرعت پیدا ہوگئی ہے لیکن پھر بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ جماعتوں کو بار بار توجہ دلائی جائے۔میں نے پچھلے سال یہ کہ دیا تھا کہ جوشخص میعاد مقررہ میں چندہ نہیں دے گا بعد میں اس کی طرف سے چندہ قبول نہیں کیا جائے گا لیکن اب تازہ اعلان میں یہ کرتا ہوں کہ جس نے گزشتہ کسی سال کا چندہ تحریک جدید ادا نہیں کیا وہ ہم سے اس کی معافی لے لے یا وہ چندہ ادا کرے تا خدا تعالیٰ کے نزدیک گنہ گار نہ ہو۔اس وجہ سے پہلے سالوں کا وہ روپیہ جو 23 ہزار کے قریب ہے وہ بھی اس قابل ہے کہ دوست ادا کریں یا اس کے متعلق مجھ سے معافی لے لیں۔اگر تم وہ چندہ ادا نہیں کر سکتے تو تم ہمیں لکھ دو کہ ہمارے حالات اب ایسے ہو گئے ہیں کہ ہمارے لئے چندہ ادا کرنا مشکل ہے۔ہم تمہیں فراخدلی سے معاف کر دیں گے اور اگر چندہ ادا کر سکتے ہو تو ادا کرو۔بہر حال دونوں راستے تمہارے لئے کھلے ہیں۔اگر اس کے باوجود کوئی شخص محض عزت نفس کے لئے معافی طلب نہیں کرتا اور نہ 510