تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 503

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرمود 28 مارچ 1937ء بچائے اور بے دینی کے مرض سے محفوظ رکھے۔اگر اس دوست کی بیوی یہاں موجود ہوتیں تو میں انہیں اپنی بیویوں کے سامنے کرا دیتا اور سات کھانوں کا فیصلہ ہو جاتا۔مگر وہ یہاں نہیں۔اس لئے میں سوائے اس کے کیا کہوں کہ اس میں ذرہ بھر بھی سچائی سے کام نہیں لیا گیا۔گذشتہ دو سالوں میں صرف دو دعوتیں ایسی ہوئی ہیں جن میں بعض غیر احمدی شریک تھے اور چونکہ ان کے مقام اور درجہ کے لحاظ سے یہ مناسب نہ تھا کہ ایک ہی کھانے پر کفایت کی جائے اس لئے میں نے اس رعایت پر ان دعوتوں میں عمل کیا جس کا میں نے شروع میں ہی اعلان کر دیا تھا۔یہ دونوں دعوتیں سندھ میں ہوئی تھیں اور ان میں غیر احمدی معززین مدعو تھے۔اس کے علاوہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے ان سالوں میں ایک کھانے سے زیادہ کھانا کھایا ہو۔اور سات کھانے تو میں نے عمر بھر میں کبھی نہیں کھائے۔صرف ایک دعوت سات یا اس سے زائد کھانوں کی مجھے یاد ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زندگی میں میں ایک دفعہ ہندوستان گیا اور شاہجہانپور میں ٹھہرا۔اس وقت حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری ( جو آج کل بیمار ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت عطا فرمائے) کے والد صاحب زندہ تھے، انہوں نے ہماری دعوت کی۔جب کھانے چنے گئے تو وہ اس قدر زیادہ تھے کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ میرا کھانا کہاں ختم ہوا ہے اور دوسرے دوست کا کھانا کہاں سے شروع ہوا ہے۔کے طور پر میں نے اس وقت کہا کہ حافظ صاحب بعض کھانوں کی پلیٹوں تک تو شاید مجھے لیٹ کر پہنچنا پڑے گا۔تو چار پانچ کھانوں سے زائد کی یہ صرف ایک دعوت مجھے یاد ہے اس کے سوا کھانا تو الگ رہا مجھے کبھی سات کھانوں کی دعوت میں بھی شامل ہونے کا موقعہ نہیں ملا۔ہاں انگریزی کھانے اس سے مستلی ہیں کیونکہ انگریزی کھانے یوں تو بہت زیادہ ہوتے ہیں اور کئی کئی کھانوں کی فہرست پیش کی جاتی ہے لیکن کھانے کے قابل صرف دو تین ہی ہوتے ہیں، باقی سب نام کے طور پر جمع کئے ہوئے ہوتے ہیں جنہیں انگریز بھی نہیں کھاتے۔غرض مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی سات کھانے کھائے ہوں اور سات کھانے ہضم کرنے والا تو میرا معدہ ہی نہیں۔بعض لوگ ممکن ہے کھا سکتے ہوں۔اسی وقت ایک غیر احمدی دوست نے ایک اور طرف میری توجہ پھرائی ہے۔وہ کہتے ہیں آپ کو خود ایسی دعوت دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا مگر آپ کے علم میں تو آیا ہے کہ ایک صاحب محرم کے دن ننانوے کھانے کھاتے ہیں۔یہ درست ہے میں نے کل ہی یہ ذکر تعجب سے سنا ہے جس وقت یہ واقعہ مجھے سنایا جار ہا تھا ایک دوست جو پاس بیٹھے تھے مسکرا کر کہنے لگے کہ شاید صاحب سواں کھا نا محرم کے غم کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں۔خیر یہ تو لطیفہ ہوا۔بات کچی یہی ہے کہ سات کھانے میں نے کبھی کھائے ہی نہیں۔ہاں چونکہ تحفے ہمارے گھروں میں کثرت سے آتے رہتے 503