تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 495
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 دسمبر 1937ء اپنے آپ کو فنا سمجھ کر وقف کریں خطبہ جمعہ فرمودہ 17 دسمبر 1937 ء جیسا کہ میں کہہ آیا ہوں۔تفاصیل تو انشاء اللہ جلسہ کے بعد بیان کروں گا مگر بعض چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر اس اثناء میں بھی کرتا رہوں گا۔چنانچہ ایک آج بیان کرتا ہوں جو یہ ہے کہ نوجوان نکلیں اور باہر جائیں۔تحریک جدید کے شروع میں بھی میں نے دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی اور بہت سے نوجوان نکلے بھی تھے مگر ان کے نکلنے کا طریق زیادہ مفید نہ تھا اور اس لئے جن ممالک میں ہم جانا چاہتے تھے اور جس رنگ میں کام کرنا چاہتے تھے نہیں کیا جاسکا۔بے شک انہوں نے قربانیاں کیں مگر صحیح طریق پر ان کی قربانیوں کو استعمال نہیں کیا جاسکا۔اس لئے میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس رنگ میں اپنے آپ کو وقف کریں کہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مبلغ بن سکیں۔میں نے پچھلے سے پچھلے خطبہ میں بھی بیان کیا تھا کہ ہمیں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو یا تو انگریزی دان ہوں اور ہم انہیں دینی تعلیم دلا دیں یا ایسے عالم ہوں جن کو یورپین زبانیں سکھا لیں۔پہلا حملہ تو ہو چکا۔اس وقت ہمیں جو ملا اور اسے جہاں بھیجنا پسند کیا بھیج دیا۔اس سے ہم نے تجربہ حاصل کیا۔نتیجہ نکلا۔خطرات دیکھے۔فوائد کا مشاہدہ کیا اور آئندہ کے لئے نقائص کو دور کرنے کے لئے اپنے ذہن میں بعض تدابیر کا اندازہ کیا۔اب دوسرا قدم ہمیں ایسے رنگ میں اٹھانا چاہئے کہ یا تو یورپین زبانوں کے ماہرین کو دین سکھائیں اور یا علاء کو زبانیں سکھا کر باہر بھیجیں تا وہ باہر جاکر مکمل تبلیغ کر سکیں۔پس جماعت کے نوجوانوں کو میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ آگے آئیں۔پہلا تجربہ ان کے سامنے موجود ہے۔اس لئے وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو پیش کریں۔جس وقت فوری ضرورت ہو اس وقت کا معیار اور ہوتا ہے اور دوسرے وقت کا اور اس وقت ہم صرف تجربہ کرنا چاہتے تھے کہ کس طرح آواز کو غیر ممالک میں پہنچا سکتے ہیں اور دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ ہم میں ایسے نو جوان موجود ہیں جو خطرات سے بے پروا ہو کر اسلام کی تبلیغ کے لئے باہر نکل جائیں۔لیکن اب ہم مستقل صورت قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس مستقل طریق پر کام کرنے والے ہوں اور جو ایسے اخلاص اور جذبہ اطاعت کے ماتحت اپنے آپ کو پیش کریں کہ جس میں کوئی کیا اور کیوں نہ ہو۔جو شخص کیا اور کیوں کہتا ہے وہ کبھی سپاہی نہیں بن سکتا۔سپاہی وہی 495