تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 494
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 3 دسمبر 1937ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول حاصل ہو جائے۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جب کسی کا جتھہ بن جائے تو اس پیشہ کی ترقی ہوتی ہے، نقصان نہیں۔دیکھو ایک گھر کا ملازم اگر کام چھوڑ دے تو کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا، لیکن اگر کسی کارخانہ کے مزدور کام چھوڑ دیں اور سٹرائیک کر دیں تو گورنر تک ان کو منانے کے لئے آتے ہیں۔پس یہ بے وقوفی کی بات ہے کہ اگر ترکھان بڑھ جائیں گے تو مجھے کام کہاں سے ملے گا۔وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ آبادی بھی اس وقت تک بڑھ جائے گی اور اس لئے کام بھی بڑھ جائے گا مثلاً اگر کوئی یہ خیال کرے کہ ہم اس وقت یہاں دس ترکھان ہیں۔اگر ہمیں ہو گئے تو ہمارے لئے کام نہیں رہے گا تو یہ بے وقوفی ہے وہ یہ کیوں نہیں سمجھتا کہ اس وقت تک یہاں کی آٹھ ہزار آبادی بھی تو سولہ ہزار ہو جائے گی۔یہ باتیں اللہ تعالیٰ پر بدظنی ہیں۔حضرت خلیفہ اسیج اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں صدر انجمن احمدیہ کے بعض ممبروں نے تحریک کی کہ جلسہ کے دن بجائے تین کے دو کر دیے جائیں۔کسی نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے بھی اس کا ذکر کر دیا۔آپ کا یہ طریق تھا کہ بعض اوقات جب آپ صدر انجمن احمد یہ پر قابض جماعت پر ناراض ہوتے اور ان سے کوئی بات کہنا چاہتے تو ان کی بجائے مجھے مخاطب کر کے کہہ دیتے اور مطلب یہ ہوتا تھا کہ میں ان کو پہنچا دوں۔جب آپ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے مجھے لکھا کہ میاں میں نے سنا ہے کہ اب جلسہ کے دن تین کی بجائے دو کر دینے کی تجویز ہے مگر میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ لا تخشى عن ذى العرش اقلالاً۔یعنی عرش والے خدا سے تم کمی کا خیال کیوں کرتے ہو۔لوگ آئیں گے ان کے ایمان اور اخلاص میں ترقی ہوگی اور اس طرح مال بھی زیادہ آئیں گے۔چنانچہ میں نے یہ بات انجمن کو لکھ بھیجی اور جلسہ بجائے دو دن ہونے کے تین دن ہی کے لئے رہنے دیا گیا۔پس پیشہ ور خدا تعالیٰ پر کیوں بدظنی کرتے ہیں ان کاموں کی ترقی جماعت کی ترقی ہوگی اور پیشہ وروں کو بھی تقویت ہوگی۔یہاں ایک زمانہ میں صرف ایک دو راج ہی تھے مگر اب بیسیوں ہیں اور خدا تعالیٰ سب کو رزق دیتا ہے اور اس زمانہ کے لحاظ سے ان کی آمدنی دوگنی تین گنی ہے۔اس زمانہ میں مزدور تین چار آنہ روزانہ لیتا تھا اور راج اور ترکھان کی آمدنی آٹھ نو آنہ تھی مگر اب سوا اور ڈیڑھ روپیہ راج اور ترکھان کی اجرت ہے اور آٹھ نو آنہ تو مزدور کوئل جاتے ہیں۔پیشہ ور اپنی اولادوں کو جو کام سکھا سکتے ہیں ان محکموں میں اس سے بہت بہتر سکھانے کا انتظام ہوگا کیونکہ ہم باہر سے ماہرین بلائیں گے اس لئے تمام افرادکو پورا پورا تعاون کرنا چاہئے کہ یہ محکمہ مضبوط ہو تا ہم اس قابل ہو سکیں کہ جلد سے جلد تمام ملک میں مبلغین پھیلا سکیں۔“ ( مطبوع الفضل 11 دسمبر 1937 ء ) 494