تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 490

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 3 دسمبر 1937ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول سے اگلے سال اس سے دس فیصدی کم اور اس طرح یہ رقم کم ہوتی جائے گی مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کی کے لفظ کے ساتھ ہی سستی پیدا ہو جاتی ہے۔اگر میں اس سال گزشتہ سال سے زیادہ کی تحریک کرتا تو میں سمجھتا ہوں مجھے اس کے متعلق دوسرے خطبہ کی ضرورت پیش نہ آتی اور لوگ خود بخود ہی خیال کر لیتے کہ ابھی تک نازک وقت موجود ہے۔پہلے سال ایک لاکھ سات ہزار کے وعدے ہوئے تھے۔دوسرے سال ایک لاکھ ستر ہزار کے اور تیسرے سال ایک لاکھ پینتالیس ہزار کے اور اگر چہ یہ پورے کے پورے وصول نہیں ہوئے مگر بہر حال وصولی میں بھی ہر سال پہلے سال سے زیادتی ہوتی چلی گئی ہے اور اگر اب بھی زیادہ کی تحریک ہوتی تو یقیناً دوست زیادہ جمع کر دیتے مگر کمی کی طرف آنے وجہ سے یہ خطرہ ہے کہ سستی نہ کریں۔پھر جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ہے دوستوں کو چاہئے اپنے بقائے صاف کریں اور یا پھر معاف کرالیں۔اگر وہ ادا کر سکتے ہوں تو اب بھی ادا کر دیں اگر چہ اب ادائیگی کا ثواب اتنا تو نہیں ہو سکتا مگر اب بھی ادا کر کے وہ گناہ سے بچ سکتے ہیں اور یقیناً کچھ تو اب بھی حاصل کر سکتے ہیں اور جو ادا نہ کر سکتے ہوں وہ کم سے کم معاف ضرور کرالیں، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ اس طرح ایک تو وہ گناہ سے بچ جائیں اور دوسرے آئندہ کے لئے ان کو خیال ہو کہ غلط وعدہ نہیں کرنا چاہئے۔معافی مانگنے سے انہیں بے احتیاطی سے وعدہ کرنے پر شرم آئے گی اور آئندہ وہ ایسا نہیں کریں گے اور دوسرے معافی لے لینے سے خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں وعدہ توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا اور تیسرے میری غرض یہ کہنے سے یہ بھی ہے کہ جو دے سکتا ہے وہ دے دے اور یہ دین کا فائدہ ہے اور جو واقعی نہیں دے سکتے وہ اگر معافی لے لیں تو اس میں ان کا اپنا فائدہ ہے۔پس وہ تمام لوگ جو پہلے سال کا چندہ نہیں دے سکے جو دوسرے سال کا نہیں دے سکے اور جو تیسرے سال کا نہیں دے سکے وہ یا تو معافی لے لیں اور یا ادا کر دیں۔تیسرے سال کیلئے تو ابھی بعض کے لئے میعاد باقی ہے۔بعض کی میعاد جنوری تک ہے اور بعض کی جون تک لیکن جو سمجھتے ہیں کہ میعاد کے اندر نہیں دے سکیں گے، وہ معاف کرالیں۔اس سال کی تحریک کے متعلق میں پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ کمی کا وقت نازک ہوتا ہے اور یہ امتحان اور آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔اس لئے سستی نہ کریں۔گواس وقت تک جو وعدے آ رہے ہیں ان میں سے ایک کافی تعداد ایسی ہے جنہوں نے اب بھی تیسرے سال کے وعدہ سے زیادہ لکھایا ہے اور یہ ایمان کا ایک مظاہرہ ہے کہ جس کی نظیر دوسری جگہ نہیں مل سکتی۔جو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جماعت گر رہی ہے اور دہریت کی طرف جارہی ہے ، ان سے میں کہتا ہوں کہ وہ غور کریں۔کیا یہ دہریوں کی علامت ہے؟ اس وقت جب ہر طرف مالی تنگی ہے۔غلوں کی قیمتیں گر رہی 490