تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 486
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 3 دسمبر 1937ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خاص حکیم تیار کرنی پڑے گی یا تو ایسے آدمیوں کو جو مولوی ہوں انگریزی پڑھانی پڑے گی اور یا پھر انگریزی دانوں کیلئے عربی اور دینیات کی تعلیم کا انتظام کرنا پڑے گا۔پہلے تو جو بھیجے گئے ہیں وہ اسی نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھ کر بھیجے گئے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام جہاں جہاں بھی ممکن ہو جلد سے جلد پہنچایا جائے۔اسلئے فوراً جو مل سکے وہ بھیج دیئے گئے تا وہ نام پہنچا ئیں اور تعلیم دینے والے بعد میں آئیں گے۔اس وقت جو پانچ مشن مغربی ممالک میں ہیں، ان میں سے دو میں تو مولوی فاضل مبلغ کام کر رہے ہیں اور تین انگریزی دان ہیں جنہیں دینی تعلیم حاصل نہیں اور ہم نے ان کو یونہی بھیج دیا ہے ان کی جگہ ہمیں ایسے لوگ بھیجنے ہونگے جو عالم ہوں اور ان کو بلا کر یا تو فارغ کرنا پڑے گا اور یا ایسے رنگ میں ان کو تعلیم دینی پڑے گی کہ وہ پھر واپس جا کر مشن کا چارج لے سکیں۔نئے مشنوں کیلئے ہمیں ابھی سے انتظام کرنا چاہئے کہ یا تو مولوی انگریزی پڑھ سکیں اور یا پھر انگریزی دان عربی اور دینیات کی تعلیم حاصل کر سکیں اور یہ سالہا سال کا مسلسل کام ہے۔اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اکثر ممالک میں تین چار سال کے عرصہ میں مفت مشن کھول سکیں گے۔اب بھی کئی جگہ مبلغین یا تو کلی طور پر اپنا خرچ خود برداشت کر رہے ہیں یا کچھ ہم دیتے ہیں اور باقی وہ خود کھاتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ کچھ مزید تجربہ کے لئے کوئی نہ کوئی صورت ایسی پیدا ہو جائے گی کہ مبلغین اپنے گزارے آپ کر سکیں۔صرف تبلیغی لٹریچر یا مبلغین کی ٹریننگ ہمارے ذمہ ہوگی۔ان کے علاوہ ہندوستان کیلئے ہمیں پیشہ ور مشنری تیار کرنے ضروری نہیں اور یہ چمڑے کے کام، بوٹ سازی وغیرہ اور لوہار ترکھان کے کام سکھانے کیلئے جو کارخانہ جاری کیا گیا ہے اس کی غرض یہی ہے کہ ہم اچھے بوٹ ساز ، اچھے لوہار اور اچھے ترکھان پیدا کریں، جو دین کے بھی عالم ہوں تا وہ جہاں جائیں، خواہ بسلسلہ ملازمت یا اپنے طور پر کام کرنے کیلئے وہ اچھے عالم اور مبلغ بھی ہوں۔اس میں شک نہیں کہ ایسے کاموں پر مبلغوں سے زیادہ خرچ آتا ہے کیونکہ ان کو سکھانے کیلئے لکڑی، لوہا اور چھڑ ا ضائع کرنا پڑتا ہے کیونکہ اگر وہ ضائع نہ کیا جائے تو وہ سیکھ نہیں سکتے۔اس لئے یہ کام بہت اخراجات چاہتے ہیں اور اس کیلئے بہت توجہ کی ضرورت ہے مگر کچھ تو روپیہ کی کمی کی وجہ سے اور کچھ دوسرے کاموں کی طرف توجہ کی وجہ سے ہم اس کی طرف پوری توجہ نہیں دے سکے۔میرا ارادہ ہے کہ اس کام کو بھی مستقل بنیاد پر قائم کیا جائے اور اگر یہ سکیم کامیاب ہو جائے تو سینکڑوں نوجوان کام پر لگ سکتے ہیں، جو ساتھ ہی مبلغ بھی ہوں گے۔میں نے سوچا ہے کہ ان سب باتوں کیلئے کم سے کم سات سال کی مہلت ہمیں ملنی چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے 486