تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 481
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1937ء قریب ہیں۔حالانکہ یہ نہایت ہی اہم فنڈ ہے اور ایک مجلس شوری کے موقع پر ایک خفیہ میٹنگ میں میں نے دوستوں پر اس کی اہمیت کو پوری طرح واضح کر دیا تھا۔پس اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اسے کسی لمحہ بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔گزشتہ احرار کے فتن میں ہمارے دشمنوں کو جو ناکامی ہوئی اس میں امانت فنڈ کا بہت بڑا حصہ ہے اور اب جو نیا فتنہ اٹھا تھا اس نے بھی اگر زور نہیں پکڑا تو در حقیقت اس میں بھی بہت سا حصہ تحریک جدید کے امانت فنڈ کا ہے۔پس اس امانت فنڈ میں جو دوست حصہ لے سکتے ہیں وہ ضرور لیں اور چاہے ایک روپیہ یا دو روپے ماہوار جمع کرائیں۔بالالتزام اس فنڈ میں روپیہ جمع کراتے جائیں اور جو پہلے ہی اس میں حصہ لے رہے ہیں وہ اسے جاری رکھیں اور سات سال اور روپیہ جمع کراتے جائیں لیکن جو لوگ سات سال تک روپیہ جمع نہ کر سکتے ہوں وہ کم از کم تین سال تک اور بھی اس میں حصہ لیں اور جو لوگ آئندہ اس میں شامل نہیں رہنا چاہتے اور اپنی جمع شدہ امانت واپس لینا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ یہ اطلاع دیں کہ وہ روپیہ لینا چاہتے ہیں یا جائیداد لینا چاہتے ہیں اگر روپیہ کا مطالبہ کریں گے تو گوگوشش ہماری یہی ہوگی کہ انہیں روپیہ واپس دیا جائے لیکن اگر روپیہ نہ دیا جا سکا تو جیسا کہ میں نے پہلے بتادیا تھا کہ انہیں اس روپیہ کہ بدلہ میں اس قیمت کی کوئی جائیداد دیدی جائے گی اور جو آئندہ کیلئے اس میں شامل رہنا چاہتے ہوں لیکن گزشتہ امانت واپس لینا چاہتے ہوں وہ بھی اطلاع دے دیں۔غرض تمام دوستوں کی طرف سے فرداً فرداً اطلاعات آجانی چاہئیں۔اس کے بعد ایک کمیٹی بنا دی جائے گی۔جس میں حصہ داران کو بھی شامل کیا جائے گا اور وہ روپیہ کی تقسیم کے کام میں مشورہ دیں گے تاکسی کو شکایت پیدا نہ ہو۔پس مالی مطالبہ سے میں اس تحریک جدید کے دوسرے دور کا آغاز کرتا ہوں اور اسکی باقی تفصیلات کو اگلے خطبات پر ملتوی کرتا ہوں۔اس وقت میں بتاؤں گا کہ ہماری جماعت پر کتنی اہم ذمہ داریاں عائد ہیں اور اسے اپنے نظام میں کس رنگ میں تبدیلی کرنی چاہئے۔وما توفیقی الا بالله 66 ( مطبوع الفضل 14 دسمبر 1937ء ) 481