تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 479
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 نومبر 1937ء بدلہ میں کوئی جائیداد دے دے اور اگر روپیہ دینے کی گنجائش ہوتو روپیہ واپس کر دے لیکن دوستوں کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جن کے پاس روپیہ موجود ہے اور وہ امانت فنڈ میں آئندہ بھی رقوم جمع کرا سکتے ہیں وہ اپنے اس طریق کو جاری رکھیں اور روپیہ برابر جمع کراتے رہیں مگر وہ دوست جو یہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ مجبور ہیں اور آئندہ وہ امانت فنڈ کی تحریک میں شامل نہیں رہ سکتے وہ دفتر کو اطلاع دے دیں اور یہ بھی لکھ دیں کہ آیا وہ روپیہ کو ترجیح دیتے ہیں کہ جائیداد کو۔اگر وہ اپنی امانت بصورت نقد لینا چاہیں گے تو جس حد تک ممکن ہو گا انہیں روپیہ واپس کر دیا جائے گا اور اگر روپیہ نہ ہوا تو اس قیمت کی انہیں کوئی جائیداد دے دی جائے گی اور جیسا کہ میں نے شروع میں ہی اعلان کر دیا تھا۔اصل قاعدہ یہی ہے کہ جائیداد کی صورت میں امانت واپس کی جائے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں دوستوں کا نفع بھی اس میں ہے کیونکہ اس صورت میں انہیں کچھ فائدہ ہو جائے گا۔جو لوگ امانت واپس لینا چاہیں اس کے لئے میں ایک کمیٹی بنادوں گا جس میں زیادہ تر ان لوگوں کو شامل کروں گا جو امانت فنڈ کے حصہ دار ہیں تا وہ دیکھ لیں کہ کسی سے بے انصافی تو نہیں ہو رہی اور آیا سب کے حقوق ادا ہو گئے ہیں یا نہیں اسکے ساتھ ہی میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جو دوست سے جاری رکھنا چاہتے ہیں وہ بھی اطلاع دے دیں اور بحیثیت مجموعی سب دوست کوشش کریں کہ اپنے اس طریق عمل کو جاری رکھیں اور بجائے حساب بند کرانے کے اور دوستوں کو بھی ترغیب دے کر نئے حساب کھلوائیں کیونکہ اس کے فوائد نہایت اہم ہیں اور اس کو جاری رکھنا نہایت ضروری ہے۔پس تحریک جدید کے دوسرے دور میں میں جماعت کے احباب سے جو میں نے ہر چند چاہا کہ تم گنہگار نہ بنو۔میں نے تمہارے لئے اس چندہ کو طوعی رکھا۔میں نے تمہیں کہا کہ اگر تم وقت کے اندرا دا نہیں کر سکتے تو مزید مہلت لے لو۔میں نے تمہیں کہا کہ اگر تم بالکل دینے کی طاقت نہیں رکھتے تو چندہ معاف کرالومگر افسوس تم نے میری کسی رعایت سے فائدہ نہ اٹھایا اور گنہگار ہونا پسند کر لیا۔یاد رکھو مجھے روپے کی ضرورت نہیں۔میں اپنے لئے تم سے کچھ نہیں مانگتا۔میں خدا کیلئے اور اس کے دین کی اشاعت کیلئے تم سے مانگ رہا ہوں اور اگر تم اس چندہ میں حصہ نہیں لو گے تو خدا خود اپنے دین کی ترقی کا سامان کرے گا مگر میں اس سے ڈرتا ہوں کہ تم دین کی ترقی میں حصہ نہ لے کر گنہگار نہ ہو۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اس موقع کو غنیمت سمجھو اور خدمت اسلام کے لئے اپنے مالوں کو قربان کر دو۔جو شخص تکلیف اٹھا کر اس خدمت میں حصہ لے گا میں اس کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ دعا کر چکے ہیں کہ اے خدا وہ شخص جو تیرے دین کی خدمت میں حصہ لے تو اس پر اپنے خاص فضلوں کی بارش نازل فرما اور آفات اور مصائب 479