تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 478

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 نومبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول نہیں بلکہ اس سے اگلے سال پانچ روپے دینے والے کیلئے جائز ہوگا کہ وہ ساڑھے چار دے اور دس دینے والے کے لئے یہ جائز ہوگا کہ وہ تو دے اور تمیں والے کے لئے یہ جائز ہوگا کہ وہ ستائیس روپے دے مگر پھر بھی جو زیادہ چندہ دینا چاہے اسکے لئے رستہ کھلا ہوگا۔یہ کمی اسی طرح سال بہ سال ہوتی چلی جائے گی یہاں تک کہ پچاس فی صدی کمی پر آکر یہ چندہ ٹھہر جائے گا اور دو سال اور گزرنے کے بعد اسے بند کر دیا جائے گا۔اس انتظام کے بعد مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنے عرصہ میں تحریک جدید کے جو کارخانے قائم کئے گئے ہیں اور اس کی جو جائیدادیں خریدی گئی ہیں وہ ایسے رنگ میں آزاد ہو جائیں گی کہ مرکزی دفتر کے اخراجات خود بخود چلتے چلے جائیں گے۔پس اس رنگ میں ہر سال اول تو چندے کا بوجھ کم ہوتا چلا جائے گا اور دوسرے یہ تحریک ایک مستقل صورت اختیار کرتی چلی جائے گی۔یادرکھو۔بہر حال قربانی خواہ کیسی ہی ہو جب تک انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد نہ کر دے اور اس کی قربانی میں خلوص اور محبت نہ پائی جائے اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔پس نہ صرف قربانیوں کی ضرورت ہے بلکہ اس اخلاص کی بھی ضرورت ہے جو قر بانیوں کو نتیجہ خیز بناتا ہے۔یہ تحریک ہے جو اس سال میں کر رہا ہوں۔بعض دوست جن کو یہ خیال تھا کہ میں اب کی دفعہ پہلے سالوں سے زیادہ مالی قربانی کا مطالبہ کروں گا۔ان کی توقع کے خلاف میں نے قربانی کا مطالبہ کم کر دیا ہے لیکن اس کی میعاد بجائے تین سال کے اب میں نے دس سال کر دی ہے یعنی تین سال وہ جو گزر چکے ہیں اور سات سال وہ جو آئندہ آنیوالے ہیں اور یہ عجیب بات ہے متعدد دوستوں کی طرف سے مجھے یہ چٹھیاں آچکی ہیں کہ میں اس تحریک کو تین سال میں ختم کرنے کی بجائے دس سال تک بڑھا دوں۔میرا اپنا بھی خیال اس نئے سال سے اس قسم کا اعلان کرنے کا تھا۔پس ان تحریکوں کو جو بالکل میرے خیال سے تو ارد کھا گئیں۔مجھے یقین ہوا کہ یہ الہی القا ہے۔پس اس تحریک کی میعاد میں توسیع اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہے اور دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس میں اپنے اخلاص اور اپنی طاقت کے مطابق حصہ لیں۔اسی تحریک کے امانت فنڈ کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دوست جو امانت فنڈ میں روپے جمع کرا رہے ہیں ، وہ اپنے سابقہ طریق کو جاری رکھنے کی کوشش کریں اور جنہوں نے ابھی تک اس میں کوئی حصہ نہیں لیا وہ اس سال سے امانت فنڈ میں اپنے روپے جمع کرانے شروع کر دیں مگر جو دوست آئندہ کیلئے اس میں حصہ نہیں لے سکتے اور چاہتے ہیں کہ ان کا روپیہان کو واپس دیا جائے اُن کیلئے دونوں صورتیں ہیں۔جن کے متعلق مرکز کو یہ اختیار ہے کہ وہ اس میں سے جو صورت چاہے اختیار کر لے۔یعنی وہ چاہے تو انہیں ان کے روپیہ کے 478