تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 462

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 15 نومبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول پس میں نے جو تحریک کی تھی ہر شخص کو چاہئے کہ دیکھے اس پر عمل کرنے سے مجھے فائدہ ہوا ہے یا نقصان۔اگر اسے نقصان نظر آئے اور وہ سمجھے کہ اس پر عمل کر کے وہ خدا تعالی سے دور ہو گیا ہے تو اُسے چاہئے کہ الگ ہو جائے مثلاً میں نے کہا تھا کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالو۔ایک ہی کھانا کھاؤ۔کپڑوں میں کمی کرو۔یہ نہیں کہ امرا بھی کھدر پ نہیں بلکہ یہ کہ جو چار کوٹ بنوا تا تھا وہ اب تین ہی بنوائے اور جو تین بنوا تا تھا وہ دو سے ہی گزارہ کرے اور جو پیسے بچیں وہ غریبوں پر خرچ کرے یا مثلاً سینما میں کوئی نہ جائے۔اب ہر شخص غور کرے کہ ان باتوں پر عمل کرنے سے اس کی روحانیت پر ضرب لگی ہے۔تو پھر وہ اس امر پر غور کرے کہ اُس کا میرے ہاتھ میں ہاتھ دینا کس کام کا اور اگر سمجھے کہ فائدہ ہوا ہے تو اسے چاہئے کہ پھر آئندہ پیش ہونے والی سکیم پر عمل کرنے کیلئے تیار ہو جائے اور اگر وہ دیکھے کہ تحریک تو مفید تھی مگر اُس نے عمل نہیں کیا تو پھر اسے غور کرنا چاہئے کہ جوشخص چشمہ پر بیٹھنے کے باوجود پانی نہیں پیتا وہ کس قدر بے وقوف ہے۔پس جن کو فائدہ ہوا ہے وہ پہلے سے زیادہ عمل کرنے کیلئے تیار ہو جائیں اور جس نے عمل ہی نہیں کیا وہ اپنی اصلاح کرے۔اس کے علاوہ دوستوں کو چاہئے کہ اپنے وعدے جلد پورے کریں۔اس سال قادیان کی جماعت پر بھی بقایا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اقتصادی تغیرات ہوئے ہیں۔ان کی تنخواہیں پہلے ہی کم تھیں اور اس سال اُن میں بھی تخفیف کر دی گئی ہے۔پھر غلہ بھی گراں رہا ہے۔مگر مومن کے وعدے ایسے نہیں ہوتے کہ ایسی باتیں اُن کے پورا ہونے میں روک بن سکیں۔لاہور کی جماعت بھی اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں اچھی ثابت نہیں ہوئی۔پھر ہندوستان کے باہر کی جماعتوں کے ذمہ 25000 کی رقم بقایا ہے۔اس میں شک نہیں کہ ابھی ان کی مدت جون 1938 ء تک ہے۔مگر رقم بھی ابھی بہت زیادہ ہے اور ان کے بقائے ان کو مجرم نہیں تو سست ضرور ثابت کرتے ہیں۔پس انہیں چاہئے کہ وعدے پورے کرنے کی طرف جلد توجہ کریں۔اسی طرح ہندوستان کی اکثر جماعتوں کے ذمہ ابھی بقائے ہیں۔انہیں چاہئے کہ وہ بقائے جلد ادا کریں۔جو شخص پہلا قدم صحیح اٹھاتا ہے اسے اگلا قدم بھی صحیح طور پر اٹھانے کی توفیق ملاتی ہے۔اس لئے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے بقائے صاف کریں تا اللہ تعالیٰ انہیں آئندہ اور نیکیوں کی توفیق دے۔آخر میں میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی زندگیوں کو عملی زندگیاں بناؤ۔اب خالی دعووں کا 462