تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 458

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 نومبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کائی جائیں۔ہمارے مخالفوں نے سمجھا تھا کہ یہ انسانی کام ہے حالانکہ ایسا نہیں وہ اگر میں چھپیں تو کیا دس لاکھ کو بھی گمراہ کر لیتے تو بھی اس درخت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے کیونکہ اسکی جڑ خدا تعالیٰ ہے۔پس پہلی شاخیں کٹتے ہی اس میں سے نئی شاخیں نکل آئیں۔کئی درخت ایسے ہوتے ہیں کہ جڑ کے کاٹنے پر بھی دوبارہ پھوٹ آتے ہیں۔نیکی کا بیج جو انبیاء کے ذریعہ بویا جاتا ہے وہ بھی اسی قسم کا سخت ہوتا ہے تم اسے کاٹ دیتے ہومگر وہ پھر نکلتا ہے تم اسے زمین کے اندر گھس کر بھی کاٹ دو پھر بھی وہ قائم رہتا ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ درخت نہیں اگ سکتا مگر خدا تعالیٰ پھر بھی اس میں سے نیا شگوفہ نکال دیتا ہے تو دشمنوں نے ہم پر حملے کئے اور ہمیں متواتر تین سال تک ان کا مقابلہ کرنا پڑا اور انکے جواب کے لئے اور جماعت کو اس نئے رستہ پر ڈالنے کیلئے میں نے یہ تحریک شروع کی جو اس لحاظ سے تحریک جدید ہے کہ اسے اب شروع کیا گیا ورنہ وہ قرآن کریم میں موجود ہے اس تحریک کے ماتحت ہم نے کئی نئے تجربے کئے ہیں۔کئی نئے مشن قائم کئے گئے اور یہ نیا تجربہ تھا۔میں نے تحریک کی تھی کہ نوجوان اپنی زندگیاں وقف کریں اور باہر نکل جائیں۔یہ بھی نیا تجربہ تھا۔دوست اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔یہ بھی نیا تجربہ تھا۔تجارت شروع کی جائے یہ بھی نیا تجربہ تھا۔پھر صنعتی اداروں کا اجرا بھی نیا تجربہ تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں ان سب میں کم و بیش کامیابی ہوئی۔سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کیں اور بیسیوں باہر نکل گئے۔کوئی کہیں چلا گیا اور کوئی کہیں۔بعض تین تین سال سے بمبئی اور کراچی میں بیٹھے ہیں وہ کسی بیرونی ملک میں جانے کے ارادہ سے گھروں سے نکلے تھے لیکن چونکہ اب تک کوئی صورت نہیں بن سکی اس لئے ابھی تک اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ان کے والدین چٹھیاں لکھتے ہیں اور مجھ سے بھی سفارشیں کراتے ہیں مگر وہ یہی التجا کرتے ہیں کہ جو ارادہ ایک دفعہ کر لیا اب اسے پورا کرنے کی اجازت دی جائے۔بعض ان میں سے اتنی چھوٹی عمر کے ہیں کہ ابھی داڑھی مونچھ تک نہیں نکلی مگر اس راہ میں وہ ٹوکری تک اٹھاتے ہیں۔پھر بعض نوجوان بیرونی ممالک میں پہنچ گئے ہیں اور وہاں بھی کئی نئے تجربے ہمیں حاصل ہوئے ہیں۔آپ لوگوں کو معلوم ہوگا کہ میں نے کہا تھا کہ ہم نے اپنے لئے مدنی طبع لوگوں کی تلاش کرنی ہے چنانچہ اس سلسلہ میں اب تک مختلف ممالک میں قریباً پندرہ مشن ہمارے قائم ہو چکے ہیں۔امریکہ، اٹلی، ہنگری، پولینڈ، یوگوسلوویہ، یہ مشن البانیہ کیلئے ہے۔لیکن چونکہ البانوی حکومت نے ہمارے مبلغ کو نکال دیا تھا۔وہ وہاں کام کر رہا ہے فلسطین ، جاوا، سٹریٹ سیٹلمنٹ ، جاپان، چین، افریقہ ان میں سے کئی مبلغ ایسے ہیں جو ہمارے خرچ پر گئے ہیں۔بعض تجارتوں کے ذریعہ سے اچھے گزارے کر رہے ہیں 458