تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 451

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 24 ستمبر 1937ء ہمیں صداقت کا اعلیٰ ترین معیار قائم کرنا چاہئے خطبہ جمعہ فرمودہ 24 ستمبر 1937ء میرے ان خطبات کو نکال کر دیکھ لو جو تحریک جدید کی سکیم کو بیان کرتے ہوئے میں نے دیئے تھے۔میں نے ان میں بتایا تھا کہ یہ ابتلا چھوٹے اور معمولی ہیں ان کے بعد بڑے ابتلا آئیں گے۔دیکھو اس وقت کسے اس مصری، پیغامی، احراری، فتنہ کی خبر تھی مگر اسی طرح ہوا جس طرح میں نے کہا تھا اب پھر میں یہی کہتا ہوں کہ یہ فتنے معمولی ہیں ان سے بھی بڑے ابھی آنے والے ہیں اور جب تک وہ نہ آئیں قوم بن ہی نہیں سکتی۔جب تک ایسی دلیری ہمارے اندر پیدا نہ ہو جائے کہ اپنی جان دینا اور اپنے مال اور وطن کو قربان کر دینا ہمارے لیے آسان ہو جائے اس وقت تک یہ دور برابر آتے رہیں گے۔اب تو یہ حالت ہے کہ معمولی چوٹ پر بھی ہم میں سے بعض رونے لگتے ہیں۔یاد رکھو کہ جب تک زندگی اور موت ، غنا اور فقر جنگی و آسائش ہمارے لئے یکساں نہ ہوں۔جب تک ہمارے دن بھی راتیں اور راتیں بھی دن نہ ہو جائیں اس وقت تک ہم اس آخری لڑائی کیلئے تیار نہیں ہو سکتے جو اسلام اور شیطان کے مابین مقدر ہے اور ابھی تو ہم نفس کی لڑائی سے بھی فارغ نہیں ہوئے۔تحریک جدید کے شروع میں ہی میں نے نصیحت کی تھی کہ ہمیں صداقت کا اعلیٰ ترین معیار قائم کرنا چاہئے مگر تم اپنے دلوں میں سوچو کہ کیا تم سچ بولتے ہو اور ہمیشہ سچ بولتے ہو۔جب تک جماعت کی اکثریت ایسی نہ ہو جو سچ بولے اور ہر حالت میں سچ بولے اس وقت تک ہم اس جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے سچائی دیکر کھڑا کیا ہے قرآن کریم کا نام بھی حق ہے اور اصل جہاد وہی ہے جو قرآن کریم کو لیکر کیا جائے جیسا کہ فرمایا وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان: 53) اور اصل جہاد اسی کا ہے جو قران کریم ہاتھ میں لیکر لڑتا ہے۔بدروحنین کی لڑائیاں معمولی تھیں۔اصل لڑائی وہی تھی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تلوار سے کی اور قرآن کریم نام ہے سچائی کا جب تک تم اپنے نفسوں میں، اپنے بیوی بچوں میں، 451