تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 449
تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 جون 1937ء چکا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ان معترضوں کی وجہ سے مجھے ان حقائق کو ظاہر کرنا پڑا اورنہ مجھے تو دینی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔میں آخر میں ان لوگوں کو جو یہ اعتراض کرتے ہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان کا مجھ پر اس قسم کے حملے کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔وہ مجھ پر نہیں بلکہ اللہ تعالی پر حملے کر رہے ہیں۔مجھے اللہ تعالی نے خلیفہ بنایا ہے اور اسی نے اپنی تائید اور نصرت کو ہمیشہ میرے شامل حال رکھا ہے اور سوائے ایک نابینا اور مادر زاد اندھے کے اور کوئی نہیں جو اس بات سے انکار کر سکے کہ خدا نے ہمیشہ آسمان سے میری مدد کیلئے اپنے فرشتے نازل کئے۔پس تم اب بھی اعتراض کر کے دیکھ لو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ان اعتراضات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔اس قسم کے اعتراضات حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی کئے گئے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ جب کسی نے ایسا ہی اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا تم پر حرام ہے کہ آئندہ سلسلہ کے لئے ایک جیہ بھی بھیجو۔پھر دیکھو خدا کے سلسلے کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔میں بھی ان لوگوں کو اسی طریق پر کہتا ہوں کہ تم پر حرام ہے کہ آئندہ ایک پیسہ بھی سلسلہ کی مدد کیلئے دو اور گو میری عادت نہیں کہ میں سخت الفاظ استعمال کروں مگر میں کہتا ہوں اگر تم میں ذرہ بھی شرافت باقی ہو تو اس کے بعد ایک دمری تک سلسلہ کو نہ دو اور پھر دیکھو کہ سلسلہ کا کام چلتا ہے یا نہیں چلتا۔اللہ تعالیٰ غیب سے میری نصرت کا سامان پیدا فرمائے گا اور غیب سے ایسے لوگوں کو الہام کرے گا جو مخلص ہوں گے اور جو سلسلہ کیلئے اپنے اموال قربان کرنا اپنے کا لیے باعث فخر سمجھیں گے۔کیا تمھیں معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے اسی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ مقبرہ میں دفن ہونے کے بارہ میں میرے اہل وعیال کی نسبت خدا تعالی نے استثنار کھا ہے اور وہ وصیت کے بغیر بہشتی مقبرہ میں داخل ہوں گے اور جو شخص اس پر اعتراض کریگا وہ منافق ہو گا اگر ہم لوگوں کا روپیہ کھانے والے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمارے لئے ایک امتیازی نشان کیوں قائم فرما تا اور بغیر وصیت کے ہمیں مقبرہ بہشتی میں داخل ہونے کی کیوں اجازت دیتا پس جو ہم پر حملہ کرتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کرتا ہے وہ خدا پر حملہ کرتا ہے۔مجھے خوب یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ باغ میں گئے اور فرمایا مجھے یہاں چاندی کی بنی ہوئی قبریں دکھلائی گئی ہیں اور ایک فرشتہ مجھے کہتا ہے کہ یہ تیری اور تیرے اہل وعیال کی قبریں ہیں اور اسی وجہ سے وہ قطعہ آپ کے خاندان کیلئے مخصوص کیا گیا۔گو یہ خواب اس طرح چھپی ہوئی نہیں لیکن مجھے یاد ہے کہ آپ نے اسی طرح ذکر فرمایا۔پس خدا نے ہماری قبریں بھی چاندی کی کر کے دکھا دیں اور لوگوں کو بتا دیا کہ تم تو کہتے ہو یہ اپنی زندگی میں لوگوں کا روپیہ کھاتے ہیں اور ہم تو ان کے مرنے کے بعد بھی لوگوں کو ان کے ذریعہ سے فیض پہنچائیں گے۔449