تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 448
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 جون 1937ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول اور تقریریں نہ کرتا اور صرف ایک کتاب لکھ دیتا تب بھی اس سے دوگنی بلکہ چوگنی رقم ماہوار کما سکتا تھا مگر میں نے تو یہ بھی کبھی نہیں کیا اور کتابیں لکھ کر سلسلہ کو دے دیتا ہوں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں کماتا ہوں اور خدا نے مجھے عقل اور فہم دیا ہے۔ابھی پچھلے سال میں نے تحریک جدید کا گیارہ ہزار روپیہ ایک نفع مند کام پر لگایا اور سات مہینوں میں دو ہزار روپیہ نفع کا ان کو دلایا جو سال بھر میں تین ہزار بن جاتا ہے اور تئیں فیصدی کے قریب نفع بنتا ہے۔جب ایک شخص ان کو اس قدر کما کر دے سکتا ہے تو وہ خود بھی روپیہ کما سکتا ہے اور میں نے جیسا کہ بتایا ہے کماتا ہوں مگر اعتراض جو کیا گیا اس میں معقولیت کا شائبہ تک نہیں اور اس کا مطلب سوائے اسکے کچھ نہیں بنتا کہ میں نے پونے چودہ روپے ماہانہ کیلئے یہ تمام پاکھنڈ مچایا۔غرض ان لوگوں کو جو اس قسم کے اخلاقی حملے کرتے ہیں میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ شاید وہ اس قسم کے اعتراضات سے کسی نا واقف کو دھوکا دے لیں مگر مالی معاملات کے متعلق میں جو بھی کام کرتا ہوں رجسٹروں کے ذریعہ کرتا ہوں۔اس لئے جب بھی کوئی شخص حملہ کرے۔اسے وہ رجسٹرات دکھائے جاسکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ میرا ہی دینا نکلے گا۔میرے ذمہ کسی کا کچھ نہیں نکلے گا۔پس اس قسم کے حملہ کرنے والوں کو یا درکھنا چاہئے کہ جب ان کے اعتراضات کی حقیقت لوگوں پر کھل گئی ان کیلئے سخت ذلت و رسوائی ہوگی۔باقی میں کبھی لوگوں کے پاس مانگنے نہیں گیا اور گوسلسلہ کی ترقی اموال پر موقوف نہیں۔پھر بھی چندہ تحریک جدید کا مالی نظام نہایت محفوظ ہے۔میں نے جب بھی کوئی تحریک کی ہے مرضی کی کی ہے۔اگر کسی کا جی چاہتا ہے تو میری تحریکات میں شامل ہو اور اگر نہیں چاہتا تو نہ ہولیکن اگر کوئی روپیہ دیتا اور پھر اعتراض کرتا ہے تو میں اس شخص سے کہوں گا کہ تجھے کس نے کہا تھا کہ تو روپیہ دے میں تو اس سے روپیہ مانگتا ہوں جو اگر مجھے دس کروڑ روپیہ بھی دے تو وہ یہ مجھ کر دے کہ یہ روپیہ اسکے اپنے پاس اتنا محفوظ نہیں جتنا میرے پاس محفوظ ہے۔میں تو کچھ عرصہ سے امانت بھی اپنے پاس نہیں رکھتا۔صدرا مجمن احمد یہ کے خزانے میں رکھواتا ہوں۔اسی طرح جس قدر چندے آتے ہیں صدر انجمن کے پاس جاتے ہیں۔تحریک جدید کا روپیہ بھی اسی کے خزانہ میں ہے اور اسی کے ذریعہ خرچ ہوتا ہے مگر معلوم ہوتا ہے بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہوا ہے کہ تحریک جدید کا روپیہ صدر انجمن میں نہیں جاتا کہیں الگ چھپا کر رکھ لیا جاتا ہے حالانکہ تحریک جدید کی تمام رقم پہلے صدر انجمن احمدیہ کے خزانہ میں جاتی اور پھر بلوں کے ذریعہ دفتروں میں جاتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مد خاص کے اخراجات عام لوگوں سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں لیکن اس مد میں جو میرے ذریعہ سے خرچ ہوا وہ تین سال میں صرف چار ہزار روپیہ کی رقم ہے اس کے مقابل پر اکیس ہزار کی رقم ہمارا خاندان دے 448