تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 444

خطاب فرمودہ 17 جون 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول روح پیدا کرو کیونکہ استقلال کے بغیر صلہ سے بے پروائی ممکن نہیں۔اگر اس دنیا میں بدلہ کا ملنا ضروری ہوتا تو کیا تم سمجھتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چا حضرت حمزہ جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی محبت تھی اور جنہوں نے جوانی کی عمر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے بڑی بڑی قربانیاں کیں اور اسی عمر میں شہید ہو گئے صلہ سے محروم رہے جو کہ اسلام کی محبت میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ ایک دفعہ جب ایک مجلس میں ایک دشمن اسلام نے ان کے چہرے پر تھپڑ مارا جس سے انکی ایک آنکھ نکل گئی اور ایک شخص نے ان سے کہا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میری حفاظت میں آجاؤ مگر تم نے نہ مانا اور اپنی آنکھ ضائع کرالی۔اس پر انہوں نے کہا کہ اگر اسلام کی راہ میں میری دوسری آنکھ بھی ضائع ہو جائے تو مجھے کوئی پروا نہیں۔انہوں نے اسلام کی فتح کا ایک دن بھی نہیں دیکھا تھا۔لیکن کیاتم یہ سمجھتے ہو کہ وہ خدا کے فضل سے محروم رہے اور انہیں کوئی صلہ نہ ملا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کے وارث ہوئے۔پس یہ مت خیال کرو کہ اس دنیا کی کامیابیاں حقیقی کامیابیاں ہیں۔مومن کا کام یہ نہیں کہ وہ اس دنیا کے صلہ کی طرف نگاہ رکھے۔اس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ رکھتا ہوا کام کرتا چلا جائے۔پس جاؤ اور اس یقین سے کام کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں تمہارے کاموں کا صلہ ضرور دے گا۔اس دنیا کی کامیابیوں کی طرف نگاہ مت کرو اگر تم پچاس سال تک کوشش کرتے رہو اور نا کام رہو یہاں تک کہ مرجاؤ تو مت سمجھو کہ تم ناکام رہے۔خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اگلے جہان میں اس کا صلہ دے گا۔ہمارا خدا رحیم و کریم خدا ہے۔اس پر بدظنی مت کرو بلکہ ہمیشہ اس پر یقین رکھو کہ وہ بدلہ کے دن ضرور بدلہ دے گا۔پس خدا پر شک لائے بغیر قربانی کرو۔بالکل ممکن ہے کہ تمہاری قربانیوں کا اس جہان میں صلہ نہ ملے لیکن خدا تعالیٰ کے وعدہ پر شبہ نہ کرو۔تمہاری قربانیاں محض خدا تعالیٰ کے لئے ہوں اور تم خدا تعالیٰ سے سودا کرنے والے مت بنو۔جب تمہاری ہر چیز اسی کی دی ہوئی ہے تو اس سے زیادہ بے حیائی اور کیا ہوگی کہ تم اسے کہو کہ آاور ہمارے ساتھ سودا کر ، جو شخص ایسا کرے گا خدا تعالیٰ اس کو دھتکار دے گا، کیونکہ وہ شخص خدا تعالیٰ کے دروازے سے را نداہ جاتا ہے جو اس قسم کا شبہ کرتا ہے اور اس سے سودا کرنا چاہتا ہے لیکن جو شخص ایسا نہیں کرتا وہ یا تو اس دنیا میں بھی بدلہ پالیتا ہے یا پھر آخرت میں یقیناً پالیتا ہے اگر وہ اس دنیا میں بدلہ نہیں پاتا تو آخرت میں اسے مل جاتا ہے۔پس تمہیں چاہئے کہ سچے مومن بن جاؤ تا کہ تمہاری زندگی اسلام کے کام آنے والی ہو اور خود تمہارے لئے بھی بابرکت ثابت ہو۔“ ( مطبوع الفضل 23 جون 1937ء ) 444