تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 431

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اپریل 1937ء دعائیں کرو کیونکہ کام بہت بڑا اور مشکلات بہت زیادہ ہیں خطبہ جمعہ فرمودہ 16 اپریل 1937ء میں نے گزشتہ جمعہ اور اس سے پہلے جمعہ میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ تحریک جدید کے مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے علاوہ اکتوبر تک ہر مہینہ میں دو دو روزے بھی رکھیں۔یہاں تک کہ گزشتہ دو سالوں کے برابر ہمارے چودہ روزے ہو جائیں۔ایک ہر مہینہ کے پہلے پیر کو اور دوسرا ہر مہینہ کی آخری جمعرات کو اور یہ کہ اگر کسی شخص سے اس پیر یا جمعرات کا روزہ رہ جائے تو وہ اس مہینہ کے کسی دوسرے پیر یا کسی دوسری جمعرات کو روزہ رکھ لے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو کسی اور دن کے روزہ سے ان روزوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔اس کے علاوہ میں نے یہ بات بھی کہی تھی کہ مئی کے آخری ہفتہ کے اتوار کو ہر جماعت اپنے اپنے مقام پر جلسے منعقد کرے اور ان جلسوں میں تحریک جدید کے مطالبات کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی جائے۔بظا ہر عقل مند کہلانے والے لوگوں کی نگاہ میں ان مطالبات میں سے میرا ایک مطالبہ شاید بالکل بے معنی اور تو ہم پرستی کا اظہار سمجھا جائے کیونکہ اس مادیت کے زمانہ میں دعا کرنا اور پھر دعا سے کسی نتیجہ کی امید رکھنا نہایت بے وقوفی اور حماقت خیال کیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ جو دعاؤں کے قائل ہیں اور دعائیں کرتے ہیں وہ بھی در حقیقت دعا کو ایک تمسخر سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں دیتے اور ان میں سے ننانوے فیصدی بلکہ ہزار میں سے 999 ایسے ہی ہوتے ہیں کہ ان کی دعائیں ایک تو ہم ، ایک تخیل ، ایک تمسخر، ایک تگ بندی اور اندھیرے میں تیر چلانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔“ " میں دیکھتا ہوں یہی حال اس وقت ہماری جماعت کے افراد کا ہے جب دشمن کا حملہ تھوڑی دیر کے لئے ہٹ جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں اب ہم بچ گئے۔میں پوچھتا ہوں تم کیوں سمجھتے ہو کہ ہم بیچ گئے، کیا احرار سے ہمارا فیصلہ ہو گیا ہے یا کیا گورنمنٹ سے ہمارا تصفیہ ہو گیا ہے؟ اگر دشمن اس وقت خاموش ہو گیا ہے تو اس کی خاموشی کے یہ معنی کس طرح ہو گئے کہ ہماری لڑائی ختم ہوگئی ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ 431