تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 424
خطبہ جمعہ فرمودہ 2 اپریل 1937 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول جائے گا اور کانگریس ان کی خود غرضیوں پر آگاہ ہو کر ان سے الگ ہو جائے گی یا پھر دونوں ہی تباہ ہو جائیں گے اور میں سمجھتا ہوں احرار جیسی بے اصول جماعت کسی جماعت سے اتحاد نہیں رکھ سکتی۔میرا غالب گمان یہی ہے کہ جس طرح گورنمنٹ پر احرار کی حقیقت کھل گئی ہے اسی طرح کانگریس پر بھی یہ حقیقت کھل جائے گی کہ احرار ایک زرطلب جماعت ہے جس کا کوئی اصول نہیں۔اس کے ارکان اپنی ذاتی ترقی اور جاہ کے بھوکے ہیں۔اس کے علاوہ ان کے سامنے کوئی مقصد نہیں۔جس دن کا نگریس پر یہ حقیقت ظاہر ہوگئی اس دن وہ کانگریس کی امداد سے بھی اسی طرح محروم ہو جائیں گے جس طرح ان حکام کی امداد سے یہ محروم ہو چکے ہیں جو پہلے ان کی پیٹھ ٹھونکتے اور انہیں بڑی بڑی امیدیں دلاتے تھے مگر یہ سب کچھ خدائی ہاتھوں سے ہوگا نہ کہ انسانی ہاتھوں سے کیونکہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ ایک کا دو سے مقابلہ ہوسکتا ہے، تین سے مقابلہ ہو سکتا ہے، دس میں سے مقابلہ ہوسکتا ہے لیکن چند لاکھ کا کروڑوں سے کس۔طرح مقابلہ ہو سکتا ہے؟ پس ضروری ہے کہ جس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے ان عظیم الشان فضلوں کا شکر ادا کریں جو اس نے ہماری سابقہ دعاؤں کو قبول کر کے نازل فرمائے وہاں ہم عاجزانہ اور منکسرانہ طور پر پھر اس سے دعا کریں کہ اے خدا ! تیرے فضلوں نے ہمارے بہت سے مصائب کو ٹال دیا ہے لیکن بہت سے مصائب ابھی باقی ہیں۔حکومت کی طرف سے بھی اور افراد کی طرف سے بھی منظم پارٹیوں کی طرف سے بھی اور متفرق لوگوں کی طرف سے بھی۔پس تو آپ ہی ہم پر فضل فرما اور ہماری عاجزانہ التجاؤں کوسن۔ہمیں اپنے پاس سے وہ طاقت بخش جس سے ہم اسلام اور احمدیت کو تمام دنیا پر غالب کر سکیں اور ہمیں اس کی اشاعت کی توفیق دے۔ہماری زبانوں میں اثر اور ہمارے دماغوں میں روشنی پیدا کر۔تا کہ ہم وہی باتیں کہیں اور سوچیں اور سمجھیں جن سے دُنیا میں تیرا جلال ظاہر ہو۔ہمارے دلوں میں جذب پیدا کر تا کہ ہم تیری محبت اور پیار کو بھی جذب کریں اور تیرے ان بندوں کو بھی تیرے دین کی طرف کھینچیں جو تجھ سے برگشتہ ہو کر دنیا میں بھٹک رہے ہیں۔اے خدا ! جس طرح مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے اسی طرح ہم تیری محبت اور تیرے بندوں کو اپنی طرف کھینچنے والے ہوں اور ہم وہ نقطۂ مرکزی ہو جائیں جس پر خدا اور بندہ آپس میں مل جاتا ہے اور ہمارا دل وہ گھر بن جائے جس میں خدا اور انسان کی محبت جاگزیں ہو جاتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے جو ہم پر سابقہ سالوں میں فضل نازل ہوئے ان کا شکر ادا ہو نا گو محال ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ انسان کے معمولی شکر کو بھی قبول فرماتا اور اس کے عوض اپنی اور زیادہ برکات نازل کرتا ہے اس لئے ہمارا 424