تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 423
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 2 اپریل 1937ء کریں اور اس پروگرام پر عمل کریں جس کا اخبارات میں ذکر آیا ہے تو اس میں کوئی محبہ نہیں کہ دنیوی نقطہ نظر سے ان کی پارٹی مضبوط ہو جائے گی کیونکہ پہلے وہ اپنی طاقت کا کچھ حصہ سیاست میں خرچ کرتے تھے اور کچھ مذہبی معاملات میں لیکن اب ایک ہی طرف اپنی تمام طاقتوں کا رجحان رکھیں گے گویا اجمَعُوا اپنی أمْرَكُمْ بھی ہو جائے گا۔اب صرف ایک تیسرا حصہ باقی رہ جاتا ہے جو میں انہیں یاد دلا دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کے ذریعہ ان کی قوم کو یہ بھی توجہ دلائی تھی کہ نہ صرف تمیم اپنے سارے شرکا کو جمع کرو اور نہ صرف ایک خاص پالیسی اپنے لئے تجویز کر لو بلکہ تمہارے سامنے ایک تفصیلی پروگرام بھی ہونا چاہئے تا مقابلہ کا کوئی طریق باقی نہ رہ جائے۔سواگر یہ تیسری بات احرار کو یاد نہ ہو تو میں انہیں یاد دلاتا ہوں کہ قرآن کریم نے دنیوی امور میں کامیابی حاصل کرنے کا تیسرا طریق یہ بتایا ہے کہ نہ صرف تمہارے سامنے ایک پالیسی ہو بلکہ ایک مفصل پروگرام بھی ہونا چاہئے جس پر کلی طور پر نظر ڈال کر اور عواقب اور انجام سوچ کر دیکھ لو کہ اگر دشمن نے یوں کیا تو ہم یوں کریں گے اور اگر ہماری تدابیر کو اس نے اس طرح باطل کیا تو ہم اس طرح کام کریں گے۔گو یا ضرر اور نقصان پہنچانے کے جس قدر طریق ممکن ہیں وہ سب سوچ رکھیں اور پھر چوتھی بات یہ بھی ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے کہلوائی کہ اچانک حملہ کر دو اور ہمیں ذرہ بھر بھی ڈھیل نہ دو پھر دیکھو کہ کون کامیاب ہوتا ہے۔میں بھی احرار سے وہی کہتا ہوں جو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا مگر وہ یا درکھیں وہ افراد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن اس سلسلہ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ان کے تمام اتحاد، ان کی تمام پالیسیاں اور ان کے تمام پروگرام هباء 14 ہو کر رہ جائیں گے اور انہیں اپنے مقصد میں ذرہ بھر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ممکن ہے وہ اس کے مقابلہ میں ایک دوسری پالیسی اختیار کریں جس کا گوا بھی ان کی پارٹی کی طرف سے اعلان نہیں ہوا مگر مجھے اس کے آثار نظر آرہے ہیں یعنی یہ کہ وہ فی الحال مذہبی جھگڑے چھوڑ دیں اور کانگریس کے ساتھ اتحاد کر لیں۔ہماری کانگریس سے کوئی لڑائی نہیں۔ملک کی آزادی کے متعلق اس کے جو مقاصد ہیں اس سے ہم پورے طور پر متفق ہیں گو ان کے طریق کار اور ہمارے طریق کار میں اختلاف ہے اور ہم کانگریس میں کام کرنے والوں کے ایثار اور ان کی قربانیوں کے بھی قائل ہیں مگر وہ ہمیں معاف رکھیں۔مذہبی معاملہ میں کسی کی رعایت نہیں کی جاسکتی۔اگر احرار اس تدبیر کو بھی اختیار کریں اور وہ چاہیں کہ کانگریس سے مل کر جماعت احمدیہ کو کچل دیں تو گو یہ منظم پالیسی ہوگی لیکن جس طرح احرار کا حکومت سے اتحاد کامیاب نہیں ہوا کانگریس سے ان کا اتحاد بھی کامیاب نہیں ہوگا اور یا تو یہ اتحاد ٹوٹ 423