تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 414

خطبہ جمعہ فرموده 19 مارچ 1937 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کے فرشتوں کی پکار اُونچی ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کے بندوں کی ندا ئیں جو کو بھر دیتی ہیں مگر اس کے دل میں کوئی حرکت ہی پیدا نہیں ہوتی۔گویا اس کے لئے جہاد اور تبلیغ بے معنی الفاظ ہیں اور اس کو ان میں کوئی لذت ہی نہیں ملتی تو کس طرح ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے شخص نے جب جہاد کے وقت جہاد کیا تھا یا تبلیغ عام کے وقت تبلیغ کی تھی اس وقت اُس نے یہ کام نیکی سمجھ کر کئے تھے؟ کیونکہ اگر واقعہ میں وہ انہیں نیکی سمجھتا تو اب کیوں خاموش رہتا اور کیوں اس کے دل میں آج وہی آوازیں سُن کر پھر جوش نہ پیدا ہو جاتا۔ہم تو یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ جس وقت اُس نے وہ کام کئے تھے کسی عارضی جوش یا خود غرضی یا کسی دھوکہ کے ماتحت کئے تھے لیکن اگر اس کے خلاف ایک دوسرا شخص ہر زمانہ اور ہر وقت اور ہر حالت میں جب خدا اور اس کے مقرر کردہ بندوں کی آواز سنتا ہے تو فورا قربانی اور ایثار کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور اگر جہاد کا وقت ہو تو امام کے آگے پیچھے، دائیں بائیں لڑنے کے لئے تیار رہتا ہے اور اگر تبلیغ کا وقت ہو تو نکل کھڑا ہوتا ہے تو ایسے شخص کے متعلق ہم مجبور ہوں گے کہ ایمان رکھیں اور یقین کریں کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت عالمین کا مظہر ہے اور ہر زمانہ میں ہادی ہونا اس کی روح کی غذا بن گیا ہے اور اسی طرح باقی اور نیکیوں کا حال ہے کہ ان کے متعلق اگر استقلال کے ساتھ کوئی شخص قائم ہوتا ہے تو ہم اس کو واقعہ میں نیک کہہ سکتے ہیں لیکن اگر استقلال کے ساتھ ان پر قائم نہیں ہوتا یا لوگوںکو دھوکہ دیتا ہے تو ایسا شخص ہر گز صفات الہیہ کا مظہر نہیں۔پس ہمارے دوستوں کو دیکھنا چاہئے کہ کیا واقعہ میں انہوں نے اپنے نیک اعمال میں دوام حاصل کر لیا ہے۔اگر ایسا نہیں تو ان کے لئے خوف کا مقام ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی بہت سے کاموں میں ہماری جماعت نے دوام کا مقام حاصل نہیں کیا۔ان کی مثال اس سوئے ہوئے بچے کی طرح ہے جسے صبح کے وقت ایک متقی ماں نماز کے لئے جگا دیتی ہے۔جب اس کی ماں اس کو بستر پر بٹھا دیتی ہے تو ماں کے سہارے وہ بیٹھ جاتا ہے لیکن بیٹھا بیٹھا ہی سو جاتا ہے۔جب ماں اس کو اس غفلت میں دیکھتی ہے تو پکڑ کر وضو کرنے کی جگہ پر لے جاتی ہے۔پھر وہاں جا کر بیٹھ جاتا ہے اور وہیں سو جاتا ہے۔پھر ماں اُسے جھنجوڑ تی ہے اور وضو کراتی ہے۔وضو کرنے کے بعد جب جسم کے سوکھنے کا یہ کچھ دیر انتظار کرتا ہے تو پھر سو جاتا ہے اور ماں پھر آکر اسے اٹھاتی ہے اور سنتیں پڑھواتی ہے اور پھر اسے نماز کے لئے باہر بھیج دیتی ہے۔وہ مسجد میں پہنچتا ہے اور نماز شروع کرتا ہے مگر کبھی سجدہ میں سو جاتا ہے اور کبھی تشہد میں کبھی ساتھ والے نمازیوں کی حرکت سے اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور کبھی وہ غفلت خواب میں پڑا ہی رہ جاتا ہے۔خدا کی عبادت کرنے والے عبادت کر کے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں اور وہ بے چارہ و ہیں نیند کا شکار ہوا 414