تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 409

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 5 فروری 1937ء جہنم سے گزرے بغیر جنت میں داخل ہو نا ممکن نہیں خطبہ جمعہ فرمودہ 5 فروری 1937ء میں نے تم کو تحریک جدید کی شروع کی تحریکوں میں یہ بتایا تھا کہ صحیح مذہبی ترقی کے لئے سچائی ضروری چیز ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل اور نڈر ہو جانا بھی بہت ہی ضروری ہے اور میرے نقطہ نگاہ سے تو سچائی اور بے خوفی ایک ہی چیز ہے۔جو بے خوف ہو وہ ضرور سچا ہو گا اور جو سچا ہو وہ ڈر نہیں سکتا۔سچ کو چھوڑتا ہی انسان ڈر کی وجہ سے ہے خواہ وہ ڈر جان کا ہو یا مال کا یا عزت کا۔جو انسان ڈرتا نہیں وہ جھوٹ کبھی نہیں بول سکتا اور جو جھوٹ نہیں بولتا وہ ضرور نڈر ہو گا۔سچائی ہمیشہ امن کا موجب ہی نہیں ہوا کرتی بلکہ بیسیوں مواقع ایسے آتے ہیں کہ سچائی مال و جان کے لئے ، وطن کے لئے ، رشتہ داروں کے لئے اور عزت کے لئے خطرہ کا موجب ہو جاتی ہے اور جوان حالات میں سچائی پر قائم رہتا ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ وہ بزدل ہے؟ سچائی اور بے خوفی اگر چہ دو علیحدہ علیحدہ خلق ہیں مگر ان کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہے۔جہاں سچ ہو گا وہیں بے خوفی ہوگی اور جہاں بے خوفی ہوگی وہیں سچ ہوگا۔بے شک تم ایسی مثالیں پیش کر سکتے ہو کہ جن میں بظاہر بے خوفی ہے مگر سچ نہیں لیکن اگر ذرا گہرا غور کرو تو معلوم ہو جائے گا کہ وہاں حقیقی بے خوفی نہ تھی۔جہو ر تھا مگر جرأت نہیں تھی۔ڈاکو اور چور ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں یہ قاتل قتل کرنے کے بعد جھوٹ بولتے ہیں۔بظاہر وہ بہا در نظر آتے ہیں لیکن اگر تم غور کرو تو درحقیقت وہ بہادر نہیں ہوتے بزدل ہوتے ہیں کیونکہ اس میں کیا شک ہے کہ جب ایک ڈا کو یا قاتل ڈا کہ یا قتل سے انکار کر رہا ہوتا ہے اس وقت وہ یقیناً ڈر رہا ہوتا ہے۔جب ایک ڈاکو کہتا ہے میں نے ڈاکہ نہیں مارا یا چور کہتا ہے میں نے چوری نہیں کی یا قاتل قتل سے انکار کرتا ہے تو اسی لئے تو کرتا ہے کہ وہ ڈرتا ہے کہ میں پکڑا نہ جاؤں اور اس صورت میں تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ وہ نڈر تھا ؟ کیونکہ جب ڈرنے کا موقعہ آیا وہ ڈر گیا۔پس گو بظاہر بعض مواقع پر یہ دونوں چیزیں اکٹھی نظر آتی ہیں مگر حقیقت یہ ظاہر بین نگاہ کی غلطی ہوتی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ بے خوفی اور جھوٹ کبھی جمع نہیں ہو سکتے اور سچ اور بے خوفی کبھی جدا 409