تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 406

خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول میں ان کو بھی اور ان کے اُستادوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اس بورڈنگ کے قیام سے میری غرض یہی ہے کہ نو جوانوں میں محنت کی عادت پیدا ہو تم بارہ گھنٹے بھی سو سکتے ہومگر پانچ چھ گھنٹے سو کر بھی گزارہ کر سکتے ہو۔سالہا سال تک جب میری صحت اچھی تھی باوجود یکہ حضرت خلیفہ اسی اول مجھے سختی سے منع کیا کرتے تھے، میں پانچ ، ساڑھے پانچ گھنٹے سے زیادہ نہیں سویا کرتا تھا۔کئی دفعہ حضرت خلیفہ اسیج اول فرمایا کرتے تھے کہ طبی نقطۂ نگاہ سے میرا مشورہ ہے کہ سات گھنٹے سے کم نیند کی صورت میں آپ کی صحت ٹھیک نہیں رہ سکتی مگر میں پانچ ، ساڑھے پانچ گھنٹہ سے زیادہ نہیں سویا کرتا تھا۔اب تو صحت اس قدر برداشت نہیں کر سکتی مگر اب بھی سوائے بیماری کے سات گھنٹے میں کبھی نہیں سویا۔بیماری میں تو بعض وقت آدمی دس گھنٹے بھی لیٹا رہتا ہے مگر ایسی حالت تو سال میں دو چار دفعہ ہی ہوتی ہے۔عام حالات میں میں اب بھی چھ پونے چھ گھنٹے سوتا ہوں۔گوشت کام کے وقت ابھی بعض دفعہ تین چار گھنٹوں پر اکتفا کرنی پڑتی ہے۔تو دنیا میں کامیابی محنت اور کام کرنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔محنت کے بغیر نیکی کی مشق بھی نہیں ہوسکتی۔بورڈ نگ تحریک جدید کے قیام سے میری غرض یہی ہے کہ چند نو جوان ایسے پیدا ہوں جو محنت کے عادی ہوں اور پھر وہ بیج کا کام دیں اور اُن کے ذریعہ ساری قوم میں یہ عادت پیدا کی جاسکے۔اس لئے میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ محنت کی عادت ڈالو، بے کاری کی عادت کو ترک کرو، فضول مجلسیں بنا کر گئیں ہانکنا اور بکواس کرنا چھوڑ دو، کھنہ اور دیگر ایسی لغو عادتوں میں وقت ضائع نہ کرو اور کوشش کرو کہ زیادہ سے زیادہ کام کر سکو۔یاد رکھو کہ ہمارے لئے بہت نازک وقت آ رہا ہے۔اس وقت ہندوستان میں نیا آئین نافذ ہو رہا ہے جس کے نتیجہ میں انگریزی اثر ملک سے کم ہو جائے گا اور تم جانتے ہو کہ دیہات میں اب بھی تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟ جن لوگوں پر احمدیوں کے احسان ہوتے ہیں اور جو احمد یوں پر احسان کرتے ہیں اور با ہم بہت اچھا سلوک ایک دوسرے سے کرتے ہیں وہاں ایک مولوی آکر تقریر کر دیتا ہے اور وہی لوگ بھڑک اُٹھتے ہیں۔پس ان حالات کے آنے سے پہلے اپنی اصلاح کر لو محنت اور قربانی کی عادت ڈالو ورنہ تمہاری حالت اس بھیڑ کی سی ہوگی جو ہر وقت بھیڑیئے کے رحم پر ہے۔جب تک تم ہمت، کوشش اور استقلال سے اپنے آپ کو شیروں میں تبدیل نہیں کر لیتے اس وقت تک تم بھیڑیں ہو جن کی جانیں ہر وقت غیر محفوظ ہیں۔خدا تعالیٰ نے تمہیں اختیار دے دیا ہے کہ اگر چاہوتو شیر بن جاؤ جو جنگل میں اکیلا بھی محفوظ ہوتا ہے 406