تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 404
خطبہ جمعہ فرمود 22 جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول دوست ڈر گئے کہ شاید قادیان میں کسی نے اس سے بدسلوکی کی ہے یا مہمان خانہ میں کسی سے لڑائی ہوگئی ہے اس لئے پوچھا کہ بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے؟ وہ سنانے لگا کہ میں یکہ میں دس بجے کے قریب وہاں پہنچا ( اس زمانہ میں یہاں ریل گاڑی نہیں تھی ) سفر کی تھکان تھی۔میں نے خیال کیا کہ آرام سے بیٹھ کرحقہ پیئیں مگر آگ لینے گیا تو کسی نے کہا کہ حدیث کا درس ہونے لگا ہے۔میں نے کہا نیا نیا آیا ہوں چلو چل کر درس سُن لوں پھر حقہ پیوں گا۔بارہ بجے وہاں سے واپس آیا تو روٹی کھا کر آگ لینے گیا معلوم ہوا کہ حضرت صاحب نماز کے لئے باہر آنے والے ہیں اور زیارت کا موقعہ ہے اس لئے چھوڑ کر مسجد کو چلا گیا۔وہاں سے واپس آیا آگ وغیرہ سُلگائی حقہ تیار کیا مگر ابھی دو چار ہی کش لگائے تھے کہ عصر کی نماز کو لوگ لے گئے میں نے سوچا واپس آکر آرام سے پیوں گا مگر آتے ہی معلوم ہوا کہ مولوی صاحب بڑی مسجد میں قرآن کریم کا درس دیں گے اس لئے اُدھر جانا پڑا۔واپس آیا تو مغرب کا وقت تھا۔مغرب کی نماز کے بعد حضرت صاحب بیٹھ گئے اور میں بھی بیٹھا رہا۔وہاں سے آیا تو خیال کیا کہ اب آرام سے حقہ پیوں گا مگر آگ ہی سلگا رہا تھا کہ لوگوں نے کہا عشاء کی اذان ہوگئی ہے چلو نماز پڑھو۔غرض سارا دن آرام سے حقہ پینے کا موقعہ نہیں ملا اس لئے میں تو سویرے اُٹھتے ہی وہاں سے بھاگا اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ جگہ آدمیوں کے رہنے کی نہیں۔اس مثال سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں میں وقت کو ضائع کرنے کا مرض کس حد تک پہنچ گیا ہے اور اس میں غریب اور امیر میں فرق نہیں۔خواہ ضائع کرنے کے طریقوں میں فرق ہو مگر ضائع سب کرتے ہیں ، سب ہی محنت سے جی چراتے ہیں اور اس امر میں ہم دونوں میں کوئی امتیاز نہیں کر سکتے۔دونوں وقت کی کوئی قیمت نہیں سمجھتے۔کل ہی ایک نوجوان کو میں نے دیکھا جو مبلغین کلاس میں پڑھتا ہے۔وہ پرسوں رات باہر سے، جہاں اُسے کسی کام پر بھیجا گیا تھا، واپس آیا اور کل شام کو اُس نے رپورٹ کی۔میں نے اُس سے دریافت کیا کہ آپ نے یہ اطلاع کل ہی واپسی پر کیوں نہ دی؟ تو اُس نے جواب دیا کہ میں نو بجے کی گاڑی سے آیا تھا اور خیال کیا کہ اب نو بج چکے ہیں۔اس نے خیال کیا کہ جس طرح نو بج جانا اس کے لئے بڑی بات ہے سب کے لئے اسی طرح ہے۔اُس نے چونکہ پہلے میاں بشیر احمد صاحب کو برپورٹ دینی تھی میں نے پوچھا کہ پھر صبح میاں صاحب کو کیوں نہ ملے؟ تو جواب دیا کہ میں آیا تھا مگر منتظمین نے اُن سے ملایا نہیں اس لئے واپس چلا گیا اور اس طرح چار مرتبہ آیا مگر ملنے کا موقع نہ ملا۔میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے چار مرتبہ اپنے آپ کو ملزم بنایا اگر تم پکے مومن ہوتے تو اس وقت تک دہلیز نہ چھوڑتے جب تک مل کر کام نہ کر لیتے۔404