تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 403

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1937ء اندازہ اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے کہ ایک فرد کو ایک چیز کے چھوڑنے سے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ہم تو صرف ظاہر کو ہی دیکھ سکتے ہیں اور ظاہر کی بناء پر بڑی غلطی بھی کر سکتے ہیں لیکن میں نے بتایا ہے کہ بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا اندازہ انسان زیادہ صحیح طور پر کر سکتا ہے اور ان میں سے پہلی چیز محنت اور کام ہے۔امرا پر غر با مالی قربانی کے سلسلہ میں طنز کر سکتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ گو وہ ایک کھانا کھانے لگ گئے ہیں لیکن وہ بھی نہایت پر تکلف ہوتا ہے اور ہم تو پہلے بھی روکھی روٹی کھا لیتے تھے یا اچار کے ساتھ کھا لیتے تھے اور اب بھی ہماری یہی حالت ہے یا وہ پانچ جوڑے کپڑوں کے استعمال کرتے ہیں اور ہم ایک ہی اس لئے کہ وہ اس عادت کی قیمت نہیں لگا سکتے جسے اُمرا نے تبدیل کیا ہے۔جسے دس جوڑوں کے استعمال کی عادت تھی اس کا اُسے چھوڑ دینا ایسا ہی ہے جیسا حقہ پینے والے کا حقہ کو چھوڑ دینا مگر عادت کی قربانی کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے اس لئے امراوغر با جھگڑتے ہی رہتے ہیں مگر وقت کی قربانی ایسی نہیں جس میں فرق کیا جاسکے۔میں نے بارہا کہا ہے کہ بے کا رمت رہو اور کام کرو، اس میں امیر وغریب سب مساوی ہیں بلکہ غریب کو جس کا پیٹ خالی ہے کام اور محنت کرنے کی زیادہ ضرورت ہے مگر میں نے دیکھا ہے ایسے لوگ بھی چھ چھ گھنٹے حقہ پینے میں ہی گزار دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ جولوگ اپنے چھ گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں اگر ان کے چھ گھنٹے ان کے مخالف نے ضائع کر دیئے تو انہیں شکوہ کا کیا حق ہے؟ وہ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہم نے مزدوری کی مگر چھ آنے ہی ملے حالانکہ ہمارا گزارہ بارہ آنے میں ہوتا ہے مگر یہ نہیں سوچتے کہ اگر اپنی آدھی عمر وہ رائیگاں گنوا دیتے ہیں تو چوتھائی اگر دوسرے نے گنوادی تو اس پر کیا الزام ! جتنا وقت وہ حقہ پینے اور فضول بکو اس میں گزارتے ہیں اتنا اگر کام کرنے اور محنت کرنے میں گزارتے تو تنگدستی نہ ہوتی۔سیر کو جاتے ہوئے میں نے دیکھا ہے کہ جہاں کوئی اچھا کھیت ہوتا ہے وہ سکھوں کا ہوتا ہے اور جس کھیت میں فصل ناقص ہو وہ مسلمان کی ہوتی ہے اور اب لمبے تجربہ کے بعد میں تو اچھی فصل کو دیکھ کر کہ دیا کرتا ہوں کہ یکسی سکھ کی ہوگی اور خراب فصل کو دیکھ کر کہہ دیا کرتا ہوں کہ کسی مسلمان کی ہوگی اور بالعموم یہ قیاس درست نکلتا ہے۔سکھوں کو ایک نمایاں برتری تو یہ حاصل ہے کہ وہ حقہ نہیں پیتے اس لئے ان کا وقت بچ جاتا ہے مگر مسلمان زمیندار تھوڑی دیر کام کرتے ہیں اور پھر یہ کہہ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ آؤ کہ پی لیں۔حقہ کی عادت زمینداروں میں اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک زمیندار یہاں مہمان آیا جب واپس گیا تو دوستوں نے پوچھا سناؤ کیا دیکھا؟ اُس نے جواب دیا کہ قادیان سے خدا بچائے۔کوئی بھلا مانس وہاں رہ سکتا ہے؟ وہ بھی کوئی آدمیوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ہمارے 403