تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 402
خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کے بھوکا رہنے کے خود تین وقت بھوکا رہنا زیادہ پسند کرے گا مگر ایک افیونی یہ پسند کرے گا کہ اس کے بیچے تین وقت فاقہ سے رہیں یہ نسبت اس کے کہ اُسے ایک وقت کی گولی نہ ملے۔پس عادتوں کی قربانی بھی بڑی قربانی ہے مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔اُمرا کو جن کھانوں کی یا جن کپڑوں کے پہننے کی عادت ہوتی ہے ان کے لئے ان کی قربانی بڑی چیز ہے لیکن دوسرا اسے دیکھ نہیں سکتا۔ایک امیر دس جوڑے کپڑے استعمال کرنے کا عادی تھا اور اب اُس نے پانچ کرلئے ہیں اس کے متعلق ایک دوسرا شخص بے شک کہے گا کہ اس کے دس جوڑے ہوتے تھے بے شک اُس نے پانچ کر ما۔لئے ہیں لیکن میرے دو ہی تھے اور دو ہی ہیں۔پس میری نسبت اس کے اب بھی تین زیادہ ہیں مگر سوال تو عادت کا ہے۔امیر کو دس کے استعمال کی عادت تھی جس میں اس نے کمی کر دی ہے اور یہ اپنی پہلی عادت پر ہی قائم ہے۔اگر چہ اس کے تین جوڑے اس کی نسبت اب بھی کم ہیں۔لیکن دو کی عادت ہونے کی وجہ سے یہ تکلیف نہیں محسوس کرتا جبکہ دس جوڑوں والا پانچ جوڑے کر کے تکلیف محسوس کر رہا ہے۔میں نے حقہ ، افیون، بھنگ اور چرس، نسوار وغیرہ کی مثال اس لئے دی ہے کہ پنجاب میں غربا عام طور پر حقہ کے عادی ہوتے ہیں اور سرحدی صوبہ و افغانستان وغیرہ میں نسوار کے استعمال کا رواج زیادہ ہے۔کوئی ناک کے ذریعہ اُسے استعمال کرتا ہے اور کوئی منہ میں ڈال کر اور ان مثالوں سے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ عادت کا چھوڑنا بھی بڑی قربانی ہے۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ امیر کے پاس پانچ جوڑے زائد تھے۔کیا ہوا اگر اس نے کم کر دیئے؟ کیا حقہ زائد نہیں ؟ جس طرح اس کے پاس کپڑے زائد تھے اس طرح حقہ بھی زائد ہے۔زمیندار کے حقہ کی قیمت اُس کے کپڑوں سے زیادہ ہوتی ہے۔جتنی مالیت کا وہ تمبا کو جلاتا ہے اتنی کے کپڑے استعمال نہیں کرتا۔وہ سردی میں ٹھٹھرتا پھرے گا، نمونیہ کی تکالیف اُٹھائے گا، اپنی صحت کو برباد کرے گا مگر حقہ نہیں چھوڑے گا۔حلقہ کی عادت کی زیادتی کی وجہ سے اس نے کپڑے کی عادت کو کم کر دیا ہے۔ہماری جماعت میں کم سے کم بیس ہزار لوگ ایسے ہوں گے جن کے حلقوں کا خرچ اُن کے چندوں سے زیادہ ہے۔کم سے کم ہیں ہزار زمیندار ایسے ہوں گے جن کا سالانہ چندہ ڈیڑھ روپیہ بلکہ بارہ آنہ ہی ہو گا اور اس قدر خرچ میں وہ سال بھر حقہ نہیں پی سکتے۔اگر وہ دھیلا روز کا بھی تمبا کو پیتے ہیں تو تین روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں مگر وہ کہیں نہ کہیں سے اس خرچ کو پورا کرتے ہیں کیونکہ وہ اس عادت کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔پس اگر ہم عادت کا اندازہ کر سکتے تو صیح نتیجہ معلوم ہوسکتا کہ کون چی قربانی کرتا ہے اور کون نہیں مگر اس کا 402