تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 398
خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول تیموں کی کتنی بڑی مدد ہو سکتی ہے۔اگر اس کے نتیجہ میں سو پچاس یتیم اور غریب بھی فاقہ زدگی سے بچ جائیں اور اپنی بچی ہوئی کمائی چندوں کے لئے دے دیں تو کتنی بڑی دین کی خدمت ہوگی۔اگر ایک یتیم کو روٹی دے دینا بڑی خوبی کی بات ہے، اگر یتیم کو پیسہ دے دینا بڑی خوبی کی بات ہے تو ایک یتیم اور بے کس کو ہنر سکھا دینا جس سے وہ ساری عمر روٹی کما سکے کیوں نیکی کی بات نہیں ؟ اور اگر کام سیکھ کر وہ اس قابل بن جائے کہ نہ صرف خود اپنا پیٹ پالے بلکہ چندہ بھی دے تو یہ اور بھی زیادہ اچھی بات ہے اور میں نے تو سکیم ہی ایسی رکھی ہے کہ دین سیکھنے کا کام بھی اس میں شامل ہے۔چنانچہ ان سکولوں میں قرآن شریف پڑھایا جاتا ہے اور دین کی بعض اور کتابیں بھی پڑھائی جاتی ہیں تا کہ جب یہاں سے ترکھان نکلیں تو صرف ترکھان نہ ہوں بلکہ مولوی ترکھان ہوں اور یہاں سے لو ہار نکلیں تو صرف لوہار نہ ہوں بلکہ مولوی لوہار ہوں اور موچی نکلیں تو صرف موچی نہ ہوں بلکہ مولوی موچی ہوں۔پس یہ تو نُورٌ عَلی نُور بات ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ ساری عمر کے لئے روٹی کما سکتے ہیں بلکہ وہ دینی معلومات بھی رکھتے ہوں گے اور مخالفین کو تبلیغ بھی کر سکیں گے۔ایسے مفت کے مولوی مل جانا اور ایسے مفت کے مولوی تیار کرنا دین کی سب سے بڑی خدمت ہے۔بھلا کونسی ایسی جماعت ہے جو ہماری جماعت کی طرح غریب ہو اور پھر وہ ہزاروں مبلغ رکھ سکے؟ زیادہ سے زیادہ پچاس سو کو ملازم رکھا جاسکتا ہے مگر تبلیغ کے لئے تو ہزاروں مبلغ چاہئیں اور وہ ہزاروں اس طرح میسر آسکتے ہیں کہ پیشے سکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں دین کی بھی واقفیت کرائی جائے تا جب وہ مسجد میں جائیں تو واعظ بن جائیں ؟ جلسوں میں جائیں تو مبلغ بن جائیں اور دکان میں جائیں تو لوہار اور ترکھان بن جائیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی آج دین کو ضرورت ہے۔اگر یہ بے دینی ہے تو خدا کرے یہ بے دینی اور بھی ہمیں میسر آئے اور مولوی محمد علی صاحب دعا کریں کہ یہ بے دینی ان کی قوم کو بھی میسر نہ آئے۔پس میں دوستوں کو مولوی محمد علی صاحب کے اس اعتراض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پھر کہتا ہوں کہ اپنے اندر سے بے کاری دور کرو ہم نے یہاں جو کام شروع کیا ہے وہ محدود پیمانہ پر شروع کیا ہے لیکن اگر مختلف پیشہ ور قربانی کریں اور وہ اپنے اپنے گاؤں کے غریبوں، یتیموں اور ناداروں کو اپنے ساتھ شامل کر کے انہیں پیشہ سکھا دیں یا کسی نادار بیوہ یا بے کار بوڑھے کے بچے کو لے لیں اور اُسے ہنر سکھائیں اور ثواب کی نیت سے کام کے ساتھ ساتھ انہیں دین کی باتیں بھی سکھلاتے رہیں تو اس ذریعہ سے بھی وہ سلسلہ سے بے کاری دُور کر کے بہت بڑا ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔اسی طرح وہ لوگ جن کے بچے اس 398