تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 396

خطبہ جمعہ فرمود : 15 جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول یہی کہوں گا کہ ہو سکے تو ہوائی جہاز بنانے سیکھو، جہاز بنانے سیکھو، کشتیاں بنانی سیکھو اور ان کے ذریعہ اگر غریبوں کی امداد کر سکتے ہو تو کرو اور بے کاروں کو کام پر لگاؤ۔کام کرنا بے دینی نہیں دین چھوڑ کر کام کرنا بے دینی ہوتا ہے یا اپنی آمد کو عیاشی پر خرچ کرنا بے دینی ہوتا ہے ورنہ کام کرنا جبکہ اس کے ساتھ دین کی محبت اور دین کے لئے قربانی شامل ہو خود دین ہے۔پس ایسے کارخانے جاری کرنے میں کوئی حرج نہیں جن کے ذریعہ غربا کی امداد کی جاسکے۔ہاں اگر ہم کارخانے اس لئے جاری کریں کہ امرا اپنی دولت میں بڑھ جائیں تو یہ بے شک ناجائز کام ہوگا لیکن ہمارا مقصد تو ان کا رخانوں کے اجرا سے دولت مندوں کو دولت میں بڑھانا نہیں بلکہ یہ ہے کہ یتیم اور غریب لڑکے ہنر سیکھ جائیں اور وہ اپنی روزی خود کما سکیں یا مثلاً لجنہ اماء اللہ کو ہم نے روپیہ دیا کہ غریب عورتوں کو اس سے سوت وغیرہ لے دے تا کہ وہ کام کریں اور اس کام کے بدلے میں انہیں ضروریات کے لئے مناسب معاوضہ دیا جائے تو اس قسم کے کام نہ صرف یہ کہ نا جائز نہیں بلکہ عین دین ہیں اور قومی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔پھر ان کارخانوں کے اجرا سے جن میں یتیم بچوں کو تر کھانے اور لوہارے کا کام سکھایا جاتا ہے یہ بھی غرض ہے کہ ان بچوں کو ساتھ کے ساتھ دین کی تعلیم بھی ملے۔چنانچہ صنعتی سکولوں میں دینیات کی تعلیم بھی شامل کی گئی ہے۔پس یہ تو عین خیر خواہی ہے اور اسلام ہے اور اگر ہم نے اب تک اس کام کو شروع نہیں کیا تھا تو اس لئے نہیں کہ ہمیں یہ کام پسند نہیں تھا۔بلکہ اس لئے کہ ہم میں طاقت نہیں تھی اور جن کاموں کو ہم اب نہیں کر رہے وہ بھی اس لئے نہیں چھوڑے ہوئے کہ ہم انہیں پسند نہیں کرتے بلکہ اس لئے چھوڑے ہوئے ہیں کہ ہم میں اُن کے کرنے کی طاقت نہیں اور اُن کے سکھانے پر جو خرچ ہوگا وہ فائدے سے زیادہ ہو گا۔ہاں جب کہ میں نے بتایا ہے اگر ہم ایسے کارخانے جاری کریں جن کی غرض یہ ہو کہ امرا کی دولت بڑھتی رہے تو یہ نا جائز ہوگا لیکن یہ کارخانے تو محض غربا کی ہمدردی اور اُن کی آئندہ زندگی سنوارنے کے لئے جاری کئے گئے ہیں اور یہ بہت بڑے ثواب کا موجب اور عین دین اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے۔سارا قرآن انہیں باتوں سے بھرا پڑا ہے کہ غریبوں کی مدد کرو اور اُن کی ہمدردی اور خیر خواہی کرو۔کیا دنیا میں ہزاروں دفعہ ہم ایسا نہیں کرتے کہ ہمارے سامنے کوئی غریب آتا ہے اور ہم اسے پیسہ نکال کر دے دیتے ہیں؟ اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک غریب شخص کو پیسہ دے دینا تو دین داری اور نیکی ہو لیکن اگر ہم اُسے کوئی پیشہ سکھا دیں جس سے وہ ہمیشہ روٹی کھا سکے تو یہ نا جائز ہو جائے ؟ ہمارے گھر میں اگر سال بھر کا غلہ پڑا ہوا ہے اور غریب کھو کا مر رہا ہے تو یہ جائز لیکن اگر ہم غریب کو کوئی ایسا ہنر سکھا دیں جس سے وہ ہمیشہ کے لئے اپنی روزی آپ پیدا کر سکے تو یہ بے دینی 396